تہران (ویب ڈیسک) بی بی سی اردو کی رپورٹس اور تصاویر کے مطابق ایران کے مختلف سکولوں میں طلبہ کو آتشیں اسلحہ چلانے کی تربیت دیتے ہوئے مناظر اور بعض اداروں کی جانب سے طلبہ کے لیے دھات کی شناختی پلیٹیں تیار کرنے یا بنوانے کی درخواستوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے سکولوں میں طلبہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت دینے کی تصاویر اور رپورٹس شائع ہو چکی ہیں اور بعض سکولوں کی جانب سے والدین سے طلبہ کے لیے شناختی پلیٹیں بنوانے یا ان کا انتظام کرنے کی باتیں سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ میں نئے منصوبوں جیسے ’نوجوان مبارز‘ اور ’نو+میدان‘ کے آغاز کا ذکر ہے جن کے بعد سکولوں میں فوجی اور سکیورٹی اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق طلبہ بسیج تنظیم کے سربراہ اور ’نوجوان مبارز‘ ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر سیاوش مسلمی نے کہا: ’ہمارے نوجوان انقلاب کے دفاع کے لیے سڑکوں پر سب سے اہم کردار ادا کرنے والے عناصر بن سکتے ہیں۔‘ انہوں نے ان ہیڈ کوارٹر کے اہداف میں ’اسلحہ چلانے کی تربیت‘ سمیت کئی تربیتی سرگرمیاں شامل بتائیں۔
گذشتہ برس فروری میں ایران کی پولیس کمان اور وزارتِ تعلیم کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے جن میں مختلف خصوصی پولیس یونٹس اور وزارتِ تعلیم کے درمیان تعاون کا ذکر کیا گیا ہے؛ ناقدین کہتے ہیں کہ اس سے اسکولی سطح پر پولیس اور سکیورٹی اداروں کی موجودگی میں اضافہ ممکن ہے۔
بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ کچھ ذرائع ابلاغ، جن میں طلبہ خبر رساں ایجنسی ’پانا‘ بھی شامل ہے، نے طلبہ کو آتشیں اسلحہ استعمال کرتے ہوئے تصاویر شائع کیں، اور سوشل میڈیا پر کم عمر طلبہ کے ساتھ فوجی اہلکاروں کی موجودگی کی متعدد تصاویر و ویڈیوز گردش کرتی رہیں۔
دوسری جانب وزارتِ تعلیم کے ترجمان نے 23 اکتوبر کو طلبہ کے لیے جنگی شناختی پلیٹوں کے اجرا کی خبروں کی ’سختی سے‘ تردید کی ہے۔ بی بی سی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دفاعی تعلیم سنہ 1986 سے ہائی سکول کے نصاب کا حصہ رہی ہے اور بعض تربیتی عناصر باقاعدگی سے تعلیمی نظام کے ذریعے کروائے جاتے رہے ہیں، البتہ ناقدین کہتے ہیں کہ حالیہ منصوبے اور تصاویر تعلیمی ماحول میں نیم فوجی تربیت کے پھیلاؤ کے خدشات کو بڑھا رہی ہیں۔




