ایران نے خبردار کیا: امریکی حملہ جنگ کو وسیع علاقے تک پھیلا سکتا ہے

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ فوجی کارروائی کی تو جنگ وسیع جغرافیائی علاقے تک پھیل سکتی ہے، جبکہ قطری ثالثی کی ٹیم تہران میں مذاکرات کر رہی ہے۔

تہران (ویب ڈیسک) ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ فوجی کارروائی کی تو جنگ ایک وسیع جغرافیائی علاقے میں پھیل سکتی ہے، جبکہ قطری ثالثی کی ٹیم تہران میں مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں موجودہ کشیدگی ایک وسیع جغرافیائی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکی صدر کسی مہم جوئی کا راستہ اختیار کریں تو جنگ کے شعلے کہیں زیادہ بڑے دائرے میں پھیل جائیں گے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ قطری ثالث اس وقت تہران میں موجود ہیں اور جمعے کو ایک قطری وفد نے اعلیٰ ایرانی حکام سے مذاکرات کیے۔ رپورٹ کے مطابق قطر اور بعض دیگر ممالک تنازع کو بات چیت کے ذریعے محدود رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم تاحال کوئی پائیدار معاہدہ طے نہیں پایا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی خبردار کیا اور کہا کہ ایران کی مسلح افواج ان عناصر سے نمٹیں گی جو ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اس درمیان وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا گیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کو ایک خط بھی بھیجا ہے، جس کی ایران نے وصولی کی تصدیق کی ہے مگر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

عالمی سطح پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں؛ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ اگر تنازع میں نئی شدت آئی تو نتائج پہلے سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہوں گے اور فریقین کو مذاکرات کی راہ اپنانی چاہیے۔ اسی تناظر میں جرمن چانسلر نے بھی زور دیا کہ اس تنازع کا فوجی حل ممکن نہیں۔

خبروں میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دی ہے، جس کی مالیت تقریباً 2.1 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، تاہم ان میزائلوں کی فراہمی 2030 کی دہائی تک متوقع ہے۔ اس فیصلے سے علاقائی اور بین الاقوامی دفاعی توازن پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

مجموعی طور پر دستیاب دستاویزات اور بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں فوجی کارروائی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ فریقین کے بیانات اور عسکری امکانات تنازع کے پھیلاؤ کا خدشہ برقرار رکھتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2804