اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ میں مرمت کے دوران لفٹ تیسری منزل سے نیچے گر گئی، جس سے آپریٹر واجد زخمی ہو گیا اور اسے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک لفٹ مرمت کے دوران تیسری منزل سے گر گئی جس کے نتیجے میں لفٹ آپریٹر واجد شدید زخمی ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق واجد لفٹ کی مرمت کر رہے تھے جب لفٹ کا دروازہ جام ہو گیا اور وہ نیچے گر گئی۔ اس واقعے میں واجد کی کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر بعد ازاں ہسپتال پہنچے اور زخمی آپریٹر کی طبیعت کا جائزہ لیا۔
یہ واقعہ ہائی کورٹ میں لفٹ سے متعلق پچھلے واقعات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے؛ 6 فروری 2025 کو ہائی کورٹ کی ایک لفٹ دوسرے فلور سے زمین پر گر گئی تھی جس میں سات افراد موجود تھے مگر انہیں بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ اسی طرح 25 اگست 2023 کو سینئر وکیل لطیف کھوسہ اور 16 دیگر افراد لفٹ میں پھنس گئے تھے جنہیں تقریباً 30 منٹ کے بعد نکالا گیا تھا۔
اب تک یہ رپورٹس واقعے کی تفصیلات اور زخمی آپریٹر کے ہسپتال منتقل ہونے تک تک محدود ہیں۔ مزید طبی صورتحال یا واقعے کی وجوہات کے بارے میں متعلقہ حکام کی جانب سے اضافی باضابطہ بیان شائع نہیں ہوا۔




