اسلام آباد: جی ٹین میں 24 سالہ لائبہ کی لاش، خاندان نے مبینہ ویزا فراڈ کا الزام لگایا

اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں 24 سالہ لائبہ کی درخت سے لٹکی لاش ملی، خاندان نے مبینہ ویزا/تعلیمی فراڈ اور نعمان نامی شخص کی جانب سے لاکھوں روپے کے مطالبات کا الزام لگایا ہے۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین کے ہفتہ وار بازار میں 24 سالہ لائبہ کی درخت سے لٹکی لاش ملی، ورثا کا الزام ہے کہ اسے ویزا/تعلیمی فراڈ سے متعلق دھوکہ دیا گیا اور اس نے واقعے سے قبل فون پر والد کو حوالہ دینے سے منع کیا تھا۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) اسلام آباد پولیس کو سیکٹر جی ٹین کے ہفتہ وار بازار میں ایک خاتون کی درخت سے لٹکی ہوئی لاش ملی، پولیس اور خاندان نے لاش کی شناخت 24 سالہ لائبہ کے طور پر کی ہے۔ لائبہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس کر چکی تھی اور خاندان کے مطابق اسے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے کی پیشکش ہوئی تھی۔

لائبہ کے بہنوئی زید بن افضال نے بی بی سی کو بتایا کہ لائبہ کا آن لائن رابطہ ایک نعمان نامی شخص سے ہوا جو خود کو سپریم کورٹ کا ملازم بتاتا تھا اور پارٹ ٹائم ویزہ کنسلٹینسی کا دعویٰ کرتا تھا۔ زید کے بقول نعمان نے لائبہ کو امریکہ میں داخلہ دلوانے کے لیے 72 لاکھ روپے مانگے؛ ابتدائی طور پر اس کے والد نے 10 لاکھ روپے دیے اور بعد میں کاغذات و فیس کے نام پر مزید 50 لاکھ روپے لیے گئے، جبکہ باقی 22 لاکھ روپے کی مانگ بھی جاری رہی۔

خاندان کا کہنا ہے کہ جب بھی ویزے کی تاریخ قریب آتی، نعمان رات کو فون کر کے تاریخ منسوخ ہونے کی اطلاع دیتا رہا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ بھیجے گئے کاغذات جعلی تھے، جس سے لائبہ بہت پریشان ہو گئی۔ زید نے بتایا کہ ایک موقع پر لائبہ نے فون پر کہا، ’میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں میرے والد صاحب کو نہ بتانا ورنہ وہ مر جائیں گے۔‘

زید کے مطابق 9 اکتوبر کو لائبہ گھر سے بغیر اجازت نکلی اور بعد ازاں اس کا موبائل ایسی جگہ ملا جہاں سگنل نہیں آ رہے تھے؛ جب خاندان نے وہاں پہنچ کر تلاش کی تو لائبہ کی لاش درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی ملی۔ انہوں نے واقعہ کی اطلاع مقامی پولیس کو دی، جس نے لاش کو اتار کر ہسپتال منتقل کیا۔

ایسے تفتیشی عمل کے بارے میں ایس ایس پی آپریشن علی رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس واقعے کی مختلف جہتوں سے تفتیش کر رہی ہے اور تمام حقائق جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر لائبہ کے اہل خانہ پوسٹمارٹم سے استثنا چاہتے تھے مگر بعد ازاں پوسٹمارٹم کروا دیا گیا، اور فی الوقت اسلام آباد پولیس کا انوسٹیگیشن یونٹ معاملے کی تفصیلی جانچ کر رہا ہے۔

لائبہ کے خاندان نے بتایا کہ اس کے والد کے پاس جی ٹین مرکز میں دودھ دہی کی ایک دکان اور اوپر ایک فلیٹ ہے جہاں وہ بیوی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں؛ خاندان کا کہنا ہے کہ لائبہ کی اعلیٰ تعلیم کی خواہش کے پیش نظر والد نے اپنا پلاٹ بھی بیچ دیا تھا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں ایف آئی اے اور دیگر حکام بھی رابطے میں ہیں۔ پولیس نے ابھی تک کسی گرفتاری یا الزام کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی اور تفتیشی نتائج آنے تک حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2742