اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) مضافاتی علاقوں سرائے کھربوزہ، دھوکے عباسی اور محلہ عثمانیہ میں ایک ماہ کے اندر 4 نوجوانوں کی موت نے مقامی رہائشیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور انہوں نے فوری تحقیق اور پینے کے پانی کے نمونوں کی لیبارٹری جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی رہائشیوں اور ذرائع کے مطابق، سرائے کھربوزہ، دھوکے عباسی اور محلہ عثمانیہ میں حالیہ ایک ماہ کے دوران 4 نوجوان انتقال کر گئے جن کے جلد از جلد اسباب معلوم کرنے کے لیے عوام نے حکام سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کچھ اموات میں لیور فیلیر کا امکان سامنے آیا ہے، تاہم درست وجوہات تاحال نامعلوم ہیں اور رہائشی سمجھتے ہیں کہ پینے کے پانی کی جانچ وقت کا اہم تقاضہ ہے۔
ایک متاثرہ خاندان کے سربراہ نے میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ ان کے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوئی، اسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اگلے روز اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے جِگر کو شدید نقصان پہنچا ہے؛ علاج کے باوجود وہ تین روز بعد انتقال کر گیا۔ یہ بیان رپورٹ میں درج کیے گئے معاملے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
سنجانی اسپتال کے ڈاکٹر گل خان نے پانی سے منتقل ہونے والی بیماریوں کی وجوہات میں سیوریج کے پانی کا پائپ لائن میں ملنا، زیرِ زمین پانی کا آلودہ ہونا، صفائی کے مسائل اور سیلاب کے دوران پانی کے ذرائع کو پہنچنے والا نقصان شامل قرار دیا اور کہا کہ گھروں، اسکولوں اور ہسپتالوں میں باقاعدہ پانی کے معیار کی جانچ ضروری ہے۔ ڈاکٹر گل خان نے رہائشیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے پینے کے پانی کے نمونے کسی معتبر لیبارٹری میں ٹیسٹ کروائیں اور اُبلایا یا مناسب فلٹر کیا ہوا پانی استعمال کریں۔ انہوں نے سیوریج ملاؤٹ سے بچاؤ اور علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی معائنہ کرنے کی ہدایت بھی دی۔
سماجی و سیاسی شخصیت واصف حیات خان نے بھی ان اموات پر تشویش کا اظہار کیا اور شفاف تحقیق اور پینے کے پانی کے نمونوں کی لیبارٹری جانچ کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی حکام سے شہریوں کی حفاظت کے لئے فوری اقدامات کا تقاضا کیا۔
رپورٹ میں عالمی ادارۂ صحت کے حوالے سے بھی بتایا گیا ہے کہ 2019 میں پاکستان میں غیر محفوظ پانی، ناقص صفائی اور ناکافی حفظِ صحّت کے باعث 38.8 اموات فی 100,000 افراد ریکارڈ کی گئیں، تاہم یہ اعداد و شمار پینے کے آلودہ پانی کی واحد وجہ تک محدود نہیں۔
اب تک مقامی محکمہ صحت یا وفاقی حکومت کی جانب سے کسی سرکاری تحقیق یا پانی کے نمونوں کی جانچ کے شروع ہونے کی تصدیق رپورٹ میں شامل نہیں۔ رہائشی اور مقامی رہنماء حکام سے فوری اور شفاف طبی و ماحولیاتی جانچ کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔




