لاہور (سٹاف رپورٹر) جماعتِ اسلامی (جے آئی) نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کے اگلے مرحلے کے لیے دو منصوبے حتمی کر لیے ہیں: ایک کراچی سے 20 ستمبر کو روانہ ہونے والی ٹرین مارچ جس کے بعد شرکاء 22 ستمبر کو جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد پہنچیں گے اور دوسرا پلان جس میں کارکنان 20 ستمبر کو براہِ راست اسلام آباد آ کر ڈی چوک میں دھرنا کریں گے۔
منصورہ میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں جماعتِ اسلامی (جے آئی) کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی تحریک کی اگلی کارروائیوں پر غور و خوض کیا اور دو متبادل تجاویز کو حتمی شکل دی۔ اجلاس کی صدارت جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کی۔
حتمی کیے گئے پہلے منصوبے کے تحت ٹرین مارچ 20 ستمبر کو کراچی سے روانہ ہوگا اور لاہور پہنچنے کے بعد وہاں موجود جماعت کے کارکنوں سے مل کر 22 ستمبر کو جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد کی طرف روانگی کرے گا۔ اس منصوبے میں کہا گیا ہے کہ قصور، پاکپتن، ملتان اور جنوبی پنجاب کے دیگر حصوں سے کارکنان پہلے لاہور پہنچ جائیں گے اور پھر قافلے کی صورت میں اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
متبادل منصوبے میں جماعتِ اسلامی کے کارکن اپنے اپنے شہروں سے 20 ستمبر کو براہِ راست اسلام آباد آئیں گے، مارچ کریں گے اور ڈی چوک میں دھرنا دیں گے۔
سورسز کے مطابق جماعتِ اسلامی گزشتہ 33 دنوں سے ملک بھر میں تقریباً 40 مقامات پر، بشمول لاہور اور کراچی، دھرنے کر رہی ہے اور احتجاجی مہم میں سڑک بندیاں اور ہڑتالیں بھی شامل رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے لاہور میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ اگر حکومت صارفین کو کم پٹرولیم قیمتوں اور لیوی میں خاطر خواہ کمی کے ذریعے ریلیف دے تو جماعتِ اسلامی احتجاج جاری رکھنے کی خواہش نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات بھی جاری ہیں، مگر مشیروں کی سمجھ بوجھ، ضد اور بے اعتنائی نے جماعت کو احتجاج جاری رکھنے کے سوا راستہ نہ چھوڑا۔
امکان ہے کہ ٹرین مارچ اور براہِ راست اسلام آباد آنے کے منصوبوں میں کسی ایک کو حتمی منظوری ملے گی یا دونوں کے امتزاج پر عمل کیا جائے گا۔ جماعت کی یہ تیاریاں ملک میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کی سطح اور تنظیمی قوت کی نشاندہی کرتی ہیں۔




