جاپانی وزیرِ اعظم نے یاسوکونی مزار کو مالی پیش کش کی، قانون ساز بھی میدانِ عمل پر گئے

گلوبل ٹائمز کے مطابق جاپانی وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی نے پیر کو متنازعہ یاسوکونی مزار کو مالی پیش کش کی اور ایک پارٹیوں بیچ گروپ کے قانون ساز بھی مزار کا دورہ کر چکے ہیں۔

لاہور (ویب ڈیسک) جاپانی وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی نے پیر کو متنازعہ یاسوکونی مزار کو مالی پیش کش کی جب کہ جاپانی میڈیا کے مطابق ایک پارٹیوں بیچ گروپ کے قانون ساز بھی اس مزار کا دورہ کر چکے ہیں۔

جاپانی میڈیا اور گلوبل ٹائمز کے حوالہ جات کے مطابق جاپانی وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی نے پیر کو متنازعہ یاسوکونی مزار کو مالی پیش کش کی۔

اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک پارٹیوں کے اشتراک پر قائم گروپ کے جاپانی قانون سازوں نے بھی اسی جنگی مزار کا دورہ کیا۔ گلوبل ٹائمز نے ان واقعات کا ذکر جاپانی میڈیا کے حوالہ کے ساتھ کیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ پیش کش ان کے بطورِ وزیرِ اعظم سابقہ ‘ماساکاکی’ پیش کش کے بعد سامنے آئی ہے۔ دستیاب مواد میں مزید تفصیلات یا رسمی بیانات شامل نہیں ہیں اور نہ ہی ذرائع نے اس اقدام پر ردِعمل یا اس کے ممکنہ بین الاقوامی اثرات کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی ہیں۔

اب تک کی فراہم کردہ خبر اسی مختصر رپورٹ تک محدود ہے اور اس میں پیش کش کی مالی رقم، دورے کی تاریخوں یا شرکاء کی مکمل فہرست شامل نہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2757