پشاور (سٹاف رپورٹر) جماعتِ علمائے اسلام پاکستان نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ بات ماننے کے باوجود وعدے سے پیچھے ہٹی، اِس نے اپنی کمٹمنٹس توڑیں اور اب اپنے رونے کو ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
جماعتِ علمائے اسلام پاکستان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اِس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حکومت نے جب معاملات طے کرنے کے طعد بعد اِن سے بیک آؤٹ کیا۔ بیان میں براہِ راست سوال اٹھایا گیا کہ حکومت پیچھے کیوں گئی اور ’’کمٹمنٹ کیوں توڑی گئی؟
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب ممکنہ طور پر حکومت یہ دلیل پیش کرے گی کہ وہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کر رہی ہے لیکن جماعتِ علمائے اسلام اِس دلیل کو قابلِ قبول جواز قرار دینے سے انکار کرتی ہے اور اِس کے پیچھے چھپنے کو درست نہیں مانتی۔
یہ بیان جماعتِ علمائے اسلام پاکستان کی باضابطہ پیغام رسانی میں شائع کیا گیا اور اِس میں حکومت کے فیصلوں پر اظہارِ تحفظ اور احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بیان میں کسی مخصوص معاہدے یا واقعات کی تفصیلات نہیں دی گئیں، جماعت نے عمومًا حکومت کی پالیسیوں اور عمل سے سوال اٹھائے ہیں۔
جماعتِ علمائے اسلام کا یہ مؤقف فی الوقت ایک سیاسی الزام کی شکل میں سامنے آیا ہے اور بیان میں حکومت کے ردِ عمل یا وضاحت کا حوالہ موجود نہیں ہے۔




