لاہور (سٹاف رپورٹر) خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ کہ انہیں دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دیا گیا غلط ہے اور انہوں نے اس جھوٹے دعوے کے تناظر میں تحریکِ انصاف سے 8 بنیادی سوالات پوچھے، جن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 13 سال میں خیبر پختونخوا اور وفاق میں آپ کی حکومت رہی تو پالیسی بنانے سے کس نے روکا۔
قومی سیاسی رہنما خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے حالیہ بیان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت کا یہ موقف کہ انہیں دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے کی اجازت نہیں دی گئی درست نہیں۔ انہوں نے کہا، “آج تحریکِ انصاف کی یہ دلیل مسلسل سننے کو ملی کہ ‘ہمیں دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی’۔” اس تناظر میں خواجہ آصف نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس “جھوٹے دعوے” پر پی ٹی آئی سے “8 بنیادی سوالات” پوچھ رہے ہیں۔
خواجہ آصف کے بیان کے مطابق ان سوالات میں پہلے نمبر پر یہ دلیل موجود ہے کہ “گذشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا میں آپ کی حکومت رہی، وفاق میں بھی آپ اقتدار میں رہے۔ آپ کو دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟” ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مرکزی اعتراض پی ٹی آئی کے بیانیے کی تاریخی درستگی اور اس کی وجہ پوچھنا ہے۔
بیان میں خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے دعوے کو محض بہانہ قرار دیا اور کہا کہ ملک میں سیکیورٹی اور انسدادِ دہشتگردی سے متعلق پالیسیاں بنانے اور نفاذ میں شراکت داری کا تاریخی ریکارڈ مدِ نظر رکھا جانا چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی سے باقی سات سوالات بھی پیش کرنے کا اعلان کیا جو جماعت کے ماضی کے دورِ حکومت اور فیصلوں سے متعلق فنی اور سیاسی نوعیت کے ہوں گے۔
اب تک پی ٹی آئی کی طرف سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ جواب شائع نہیں ہوا۔




