اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر اتفاق ہو گیا ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری اتوار کو وفاقی کابینہ سے لیے جانے کا امکان ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے الگ الگ اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں، اجلاس میں منگل 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کا آجلاس کل صبح ساڑھے 9 بجے طلب کیا گیا ہے، اجلاس میں خیبر پختونخوا مین ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر ایوان صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے زیرِ صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں صدر آصف علی زرداری، وزیرِاعظم شہباز شریف ، نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی سمیت اہم وفاقی وزراء شریک ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے سینیٹروں نوید قمر، شیری رحمان اور سلیم مانڈوی والا کے علاوہ ڈاکٹر عاصم نے صدر مملکت کی معاونت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی رپورٹ پر غور کیا گیا جس میں گورنر نے خیبر پختونخوا کی بگڑتی سکیورٹی صورتحال کا ذِکر کیا تھا۔
اجلاس میں کے پی کے ضم شدہ اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں عوام کے تحفظ کے لیے اہم اختیارات وفاق کے استعمال کرنے کی تجویز اور آئین کے آرٹیکل 232 سے 234 کے تحت مختلف آپشنز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ اِس سے قبل وزیراعظم نے جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے امیر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ فون پر گفتگو کی اور کشیدگی کو کم کرنے کے طریقے پر تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت کے نتیجے میں وفاقی حکومت نے صوبائی حکام کے ساتھ مل کر امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا وعدہ بھی دہرایا۔




