لاہور (سٹاف رپورٹر) مذاکراتی ٹیموں نے خیبرپختونخوا کے دہشت گردی سے متعلق نفاذ منصوبے کے علاوہ ایک علیحدہ مسودہ حتمی کیا، جو دونوں فریقوں نے باہمی طور پر منظور کیا۔
مانیٹرنگ ڈیسک — مذاکرات کے دوران ایک مسودہ ممکنہ طور پر نصف شب کے وقت گردش میں آیا جسے “متفقہ مسودوں کو خراب کرنے کی کوشش” کے طور پر دیکھا گیا۔
تاہم بات چیت میں براہِ راست شامل مذاکراتی ٹیموں نے ایک علیحدہ مسودہ ہمارے ساتھ حتمی کیا، اور بتایا گیا کہ وہ مسودہ دونوں فریقوں نے منظور کیا۔
یہ علیحدہ حتمی شدہ مسودہ خیبرپختونخوا کے دہشت گردی سے متعلق نفاذ منصوبے کے علاوہ تیار کیا گیا اور دونوں جانب سے اس کی باہمی منظوری ظاہر کی گئی۔
ماخذ نے اس عمل کی بابت مزید تفصیلات یا مسودے کے متن کا حوالہ نہیں دیا، اور نہ ہی گردش کرنے والے نصف شب کے مسودے کے مؤقف یا تیار کنندہ کے بارے میں وضاحت فراہم کی گئی۔
حالیہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل میں متوازی دستاویزات تیار ہوئیں مگر مذاکراتی ٹیموں کے درمیان ایک باہمی منظور شدہ فریم ورک بھی قائم کیا گیا ہے۔




