خیبر پختونخوا (کے پی) کابینہ نے صوبے میں سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے روپے 1 ارب کی منظوری دے دی، جس میں چترال کے لیے خاص طور پر روپے 500 ملین مختص کیے گئے؛ کابینہ کے 57 ویں اجلاس میں یہ فیصلہ لیا گیا اور متعلقہ شعبے کو ورلڈ بینک کی انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) سے اسلامی بینکاری اصول کے تحت مالی معاونت طلب کرنے کی اجازت دی گئی۔
پشاور — خیبر پختونخوا (کے پی) کابینہ نے صوبے بھر میں حالیہ سیلابی واقعات سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے مجموعی طور پر روپے 1 ارب منظور کیے ہیں۔ اطلاعات، سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر شفیع جان نے کابینہ کی جانب سے ہونے والے فیصلوں کی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس رقم میں سے روپے 500 ملین خاص طور پر چترال کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر اطلاعات کے بقول یہ فیصلہ کابینہ کے 57 ویں صوبائی اجلاس میں لیا گیا۔ کابینہ نے متعلقہ محکمے کو اجازت دی ہے کہ وہ بحالی کے منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے ورلڈ بینک کی انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) سے اسلامی بینکاری کے اصولوں کے تحت قرض یا گرانٹ حاصل کرنے کی درخواست کر سکے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ منظور شدہ فنڈز کا مقصد تباہ شدہ سڑکیں، پل، پانی و نکاسی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی مرمت کر کے بحالی کے عمل کو تیز کرنا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں معمول کی زندگی جلد از جلد بحال ہو سکے۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل افریدی نے بھی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو تیز کیا جائے اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق کاموں میں بیوروکریٹک رکاوٹیں دور کی جائیں۔ انہوں نے موجودہ مالی سال میں صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کا اظہارِ امید کیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق فنڈز کی تقسیم اور بحالی کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار جلد جاری کیے جائیں گے۔




