گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی

گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی سکیورٹی کا جائزہ لینے والا اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا، پولیس اور سی ٹی ڈی کی صلاحیتیں مضبوط کرنے پر زور دیا؛ اجلاس میں امن عامہ اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی صورت حال پر بات ہوئی۔

پشاور (سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں ہنگامی یا براہِ راست حکمرانی کے امکانات کے درمیان اپنے آئینی دائرہ کار سے بڑھ کر سکیورٹی اور نظم و نسق کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں اُنہوں نے پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی صلاحیت مضبوط کرنے پر زور دیا۔

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے منگل کو صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جبکہ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے طے شدہ لانگ مارچ سے پیدا ہونے والی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

گورنر نے پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل صلاحیت مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اکرم اللہ خان، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ محمد کاشف عالم، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو ارشد علی خان (این ایس سی)، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی آپریشنز شاکر حسین داور اور دیگر سینئر حکام شریک ہوئے۔

گورنر ہائوس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ شرکاء نے صوبے میں عوامی اَمن اور امان، انسدادِ دہشت گردی اقدامات اور تازہ ترین جرائم کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور ضروری وسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ یہ اجلاس اُسوقت ہوا ہے جب صوبے کی حمکران جماعت، وزیراعلیٰ اور اُن کی کابینہ لانگ مارچھ کر رہے ہیں اور صوبے میں ہنگامی یا براہِ راست حکمرانی کے اطلاق کے حوالے سے قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔ گورنر کی طرف سے اِس اجلاس کی صدارت کو روایتی آئینی حدود سے قدم آگے بڑھانا قرار دیا جا رہا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2787