صوابی (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے صوابی میں کھلی کچہری کے دوران معذور افراد، یتیموں اور بیواؤں کے لیے جامع مالی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جس میں ماہانہ وظائف، قرض سکیم اور ہائر ایجوکیشن کے وظائف شامل ہیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ کے سوشل ویلفیئر اور زکٰوة و عُشر کے مشیر ملک لیاقت علی خان نے صوابی میں ہونے والی کھلی کچہری میں معذور شہریوں کے لیے متعدد فلاحی اقدامات کا اعلان کیا۔ اُن کے بقول موجودہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں چند نئی فلاحی سکیمیں شامل کی گئی ہیں۔
مشیر نے بتایا کہ’’احساس اُمید پروگرام‘‘ اِس ہفتے شروع کیا جائے گا جس کے تحت اہل افراد کو براہِ راست ماہانہ مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ اِس سکیم کے تحت 10 ہزار معذور افراد کو ماہانہ پانچ ہزار روپے بطور وظیفہ دیے جائیں گے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ایک الگ کارڈ پر مبنی اقدام کے تحت یتیموں اور بیواؤں کو بھی ماہانہ پانچ ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ کاغذی کارروائی میں کمی کے لیے یہ رقم براہِ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کی جائے گی اور رجسٹریشن سہولت بھی دروازے تک پہنچائی جائے گی۔
صوبائی حکومت نے معذور افراد کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے اور معاشی خود کفالت کے فروغ کے لیے 50 کروڑ روپے کی بغیر سود کے قرض سکیم بھی قائم کی ہے۔ اِس کے علاوہ معذور طلبہ کی اعلیٰ تعلیم اور ہنر مندی کی تربیت کے لیے 70 کروڑ روپے کے برابر امداد فراہم کی جائے گی۔
پیکیج میں صوبائی جہیز فنڈ کے تحت معذور افراد کے لیے خاص کوٹہ اور فوری ریلیف اقدامات بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں مشیر نے کہا کہ امداد کی فراہمی کو تیز اور آسان بنایا جائے گا۔
کھلی کچہری کے دوران ایک معمر معذور شہری کو فوری طور پر 50 ہزار روپے کی گرانٹ بھی دی گئی جو مشیر کے مطابق اُس کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے تھی۔
سرکاری اعلان کے مطابق یہ اقدامات معذور افراد، یتیموں اور بیواؤں کی معاشی خودمختاری، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔




