محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے اعلان کیا ہے کہ روسی کبوتر کا شکار 1 ستمبر سے 31 اکتوبر 2026 تک ہفتے میں تین دن اجازت یافتہ ہوگا، شکار کے لیے مخصوص لائسنس ضروری ہوگا اور روزانہ زیادہ سے زیادہ 8 کبوتر شکار کیے جا سکتے ہیں۔
پشاور — محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے صوبے بھر میں روسی کبوتر کے شکار کے قواعد جاری کیے ہیں۔ نوٹی فکیشن کے مطابق شکار کا دورانیہ 1 ستمبر سے 31 اکتوبر 2026 تک طے کیا گیا ہے اور شکار صرف جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو ہی اجازت یافتہ ہوگا۔
محکمہ نے واضح کیا ہے کہ شکار کرنے والوں کو “چھوٹے شکار کا لائسنس” حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ ہر شکاری ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 8 روسی کبوتر شکار کر سکتا ہے، اور اس حد سے تجاوز کرنے پر فی کبوتر 5,000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
شکار طلوع آفتاب سے قبل یا غروب آفتاب کے بعد ممنوع ہو گا۔ بغیر لائسنس شکار کرنے یا مقررہ روزوں کے علاوہ شکار کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ جنگلی حیات نے کہا ہے کہ وہ روسی کبوتر کی آبادی پر مسلسل نگرانی جاری رکھے گا اور اگر تعداد میں کمی کے آثار نظر آئے تو شکار فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا۔
نوٹی فکیشن میں شکار کے دوران قواعد و ضوابط کی پابندی پر زور دیا گیا ہے تاکہ جنگلی حیات کے تحفظ اور آبادی کے پائیدار انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔




