مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا کے سیکورٹی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ترجیحات کی وضاحت کی

مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت فروری 2024 سے پولیس، لاء اینڈ آرڈر، عدلیہ اور ٹی ڈی پیز پر ترجیحی بنیادوں پر وسائل خرچ کر رہی ہے اور انہوں نے پولیس کے جرائم ریکارڈ کا حوالہ دیا۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے صوبے کے سیکورٹی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فروری 2024 سے پولیس، لاء اینڈ آرڈر، عدلیہ اور ٹی ڈی پیز پر ترجیحی بنیادوں پر وسائل خرچ کر رہی ہے اور انہوں نے خیبرپختونخوا پولیس کے جرائم ریکارڈ کا حوالہ دیا۔

مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے صوبے کے سیکورٹی بجٹ کے بارے میں باقاعدہ ردعمل دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے فروری 2024 سے پولیس، قانون و نظم، عدلیہ اور ٹی ڈی پیز پر ترجیحی بنیادوں پر وسائل خرچ کرنے کا فیصلہ جاری ہے، جیسا کہ مزمل اسلم نے بیان کیا۔

مزمل اسلم نے اپنے بیان میں خیبرپختونخوا پولیس کے جرائم ریکارڈ کا حوالہ بھی دیا اور مخصوص نوعیت کے جرائم مثلاً ڈکیتی، اغواکاری اور موبائل و گاڑی چوری کا زکر کیا۔ دستیاب حوالہ جات میں ان نکات کا ذکر موجود ہے، تاہم ماخذ کی فراہم کردہ تحریر میں ان عوامل کے بارے میں مزید تفصیل یا اعداد و شمار شامل نہیں کیے گئے۔

سرکاری بیان میں بجٹ کی ترجیحات کو واضح کیا گیا ہے مگر اصل پیغام یا تفصیلی اعدادوشمار ماخذ تحریر میں محدود ہیں۔ متعلقہ سرکاری محکموں یا مزمل اسلم کی جانب سے شائع ہونے والے مزید دستاویزی اعدادوشمار یا تفصیلی رپورٹس جاری ہونے پر عوام کو مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2848