پشاور (سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا کے تعلیمی مشیر ڈاکٹر عامر عبد اللہ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں غیر محفوظ سکول عمارتوں کی نشاندہی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، یہ اقدام پشاور میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے کے چند روز بعد کیا گیا۔
خیبرپختونخوا کے تعلیمی مشیر ڈاکٹر عامر عبد اللہ نے صوبے میں تمام ممکنہ خطرناک سکول عمارتوں کی نشاندہی کا عمل شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم سوشل میڈیا پر سکول عمارتوں کی خطرناک حالت سے متعلق اطلاعات اور ویڈیوز کے بعد کی گئی۔
اُنہوں نے کہا کہ ابتدائی رپورٹس متعلقہ حکام تک پہنچنا شروع ہو گئی ہیں جس سے محکمہ تعلیم کو مشتبہ عمارتوں کی نشان دہی اور حفاظتی اقدامات جلد از جلد کرنے میں مدد ملے گی۔ مشیر نے امتحانی عمل کی نگرانی کرنے والے اہلکاروں اور عملے کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ محکمہ نے ہفتہ وار تعطیل کے باوجود مسلسل کام کیا تاکہ عوام کی جانب سے بھیجی گئی معلومات کا فوری جائزہ لیا جا سکے۔
ڈاکٹر عامر نے شہریوں کی شراکت کی قدر کی اور کہا کہ جن لوگوں نے غیر محفوظ عمارتوں کی ویڈیوز ریکارڈ کر کے متعلقہ حکام کو بھیجی وہ ایک اہم سماجی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے خطرات کی اطلاع دیتے رہیں تاکہ متعلقہ محکمے جلد از جلد معائنے اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کر سکیں۔
اس اقدام کو اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پشاور میں حالیہ چھت گرنے کے المناک واقعے میں “کم از کم 30 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر ہلاک اور 50 سے زائد زخمی” ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جنھوں نے اسکولوں کی عمارتوں کی سلامتی کے معاملے کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر عامر نے امید ظاہر کی کہ حکومت کے افسران، تعلیمی محکمے اور شہری مل کر حفاظتی معیار بہتر بنانے میں مدد کریں گے تاکہ طلبہ اور عملہ محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔




