شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) نے لاہور کو 2026-27 کے لیے اپنا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت منتخب کر دیا، یہ اعلان ایس سی او کے رؤساءِ ریاست کے 26ویں اجلاس میں بیشکیک، کرغزستان میں کیا گیا جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔
ایس سی او (شنگھائی تعاون تنظیم) نے لاہور کو 2026-27 کے لیے تنظیم کا سالانہ سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ تنظیم کے رؤساءِ ریاست کے 26ویں اجلاس کے دوران بیشکیک، کرغزستان میں باقاعدہ طور پر سامنے آیا، جہاں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔
ماخذ کے مطابق یہ عہدہ 2022 سے رکن ممالک کے درمیان سالانہ بنیاد پر گردش کرتا ہے اور اس کا مقصد اس ملک کے ثقافتی ورثے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہوتا ہے جو اس وقت روٹیشن والی صدارت سنبھالے ہوئے ہو۔ اس سال پاکستان نے ایس سی او کی صدارت سنبھالی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین شپ کا موضوع ‘‘وژن کو عمل میں تبدیل کرنا: رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی’’ رکھا۔
پچھلے سالوں میں یہ عنوان مختلف شہروں کو دیا گیا: 2022-23 میں بھارت کے وارانسی، 2023-24 میں قازقستان کے الماتی، 2024-25 میں چین کے چِنگداؤ اور 2025-26 میں کرغزستان کے چولپون آتا شامل ہیں۔
لاہور کو یہ درجہ اپریل میں لیا گیا تھا جب ایس سی او کے رکن ممالک کے سیاحت کے سربراہان بیشکیک میں ملاقات کر رہے تھے اور انہوں نے اس نامزدگی کی سفارش کی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس قسم کی نامزدگیاں رکن ممالک کے درمیان لوگوں کے باہمی رابطے، ثقافتی تبادلے اور سیاحتی روابط کو فروغ دینے کے لیے کی جاتی ہیں۔
پاکستانی حکام کے لیے لاہور کا انتخاب ایک اہم موقع تصور کیا جا رہا ہے—یہ شہر اپنی تاریخی عمارتوں، صوفیانہ روایات، کھانوں اور ثقافتی تقریبات کے ذریعے ایس سی او کے رکن ممالک میں پاکستان کا چہرہ اجاگر کر سکے گا۔ ماخذ نے بتایا کہ آئندہ برسوں میں لاہور میں ثقافتی میلوں، نمائشوں اور سیاحتی پروگراموں کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان روابط بڑھانے کی منصوبہ بندی متوقع ہے۔
اب جب لاہور کو یہ اعزاز دیا جا چکا ہے تو مقامی اور وفاقی سطح پر سیاحت، ثقافت اور انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبوں میں تیزی آنے کا امکان ہے تاکہ شہر کو بین الاقوامی مہمانوں کے استقبال کے لیے تیار کیا جا سکے۔




