لاہور (سٹاف رپورٹر) لاہور میں چند روز قبل ایک معاون ٹریفک وارڈن نے ہیلمٹ نہ پہننے پر موٹر سائیکل سوار زین کا بازو سپیڈ سے چلتی موٹر سائیکل سے پکڑنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ تاوزن کھو کر سڑک پر گرا اور اُس کا سر فُٹ پاتھ سے جا ٹکرایا جس سے اُسے سر میں شدید چوٹیں آئیں۔ اُسے سروسز ہسپتال منتقل کیا جہاں دوہ چند روز زندہ رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔ اِس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی ماڈل ٹاؤن کو واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔
زین کے بھائی ایاز نے شادمان تھانے اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز کے دفتر میں شکایت درج کرائی ہے۔ ایاز نے الزام لگایا کہ واقعے کے بعد معاون ٹریفک وارڈن اور ایک سینئر ٹریفک وارڈن نے خود کو قانونی کارروائی سے بچانے کے لیے اُٹا متوفی زین کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ۔
رپورٹس کے مطابق زین کو سر کا فریکچر ہوا تھا اور وہ کئی دن ہسپتال میں زیرِِ علاج رہنے کے بعد چل بسا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور صارفین نے ٹریفک حکام کے رویے پر کڑی تنقید کی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے حالات کا تعین کرنے اور وارڈن کے ممکنہ طرزِِ عمل کی چھان بین کے لیے انکوائری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پولیس انکوائری کے نتائج سامنے آنے کے بعد پولیس والے کے خلاف مزید کارروائی یا قانونی اقدام کی جا سکے گا۔




