سوشل میڈیا میں طنز اور جنس پرستانہ تبصروں کو کوشِش میں بدل دیا، لائبہ خان لودھی پروفیشنل ڈرِفٹر بن گئیں

ڈان کے مطابق ایک ابتدائی ڈرِفٹنگ ویڈیو پر میم اور جنس پرستانہ تبصروں کے بعد لائبہ خان لودھی نے اسی منفی ردِعمل کو ایندھن بناتے ہوئے پروفیشنل ڈرِفٹر بننے کا سفر شروع کیا۔

(ویب ڈیسک) ڈان کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ابتدائی ڈرِفٹنگ ویڈیو کو میم بنا کر اور جنس پرستانہ تبصروں سے محاصرے کے باوجود لائبہ خان لودھی نے اسی منفی ردِ عمل کو اپنی محنت کا ایندھن بنا کر پروفیشنل ڈرِفٹر بننے کا سفر جاری رکھا۔

ڈان نے بتایا کہ ابتدائی کار ڈرِفٹنگ ویڈیو کو میم بنایا گیا اور اس کے بعد آن لائن جنس پرستانہ تبصروں کی بھرمار ہوئی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق لائبہ خان لودھی نے ان منفی ردِ عمل کو ذاتی محرک بنایا اور انہیں پیشہ ورانہ ڈرِفٹنگ کی جانب اپنے عزم کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا۔

ڈان کی رپورٹ میں واقعہ کی یہ بنیادی تفصیل دی گئی ہے کہ طنز اور ہراسگی کے باوجود وہ اپنے نصب العین پر قائم رہیں اور پروفیشنل ڈرِفٹر بننے کی طرف بڑھیں۔

رپورٹ میں دیگر پس منظر یا اضافی تفصیلات شامل نہیں کی گئیں؛ دستیاب ماخذ صرف اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ آن لائن تنقید نے لائبہ کے عزم کو متاثر کرنے کے بجائے مضبوط کیا اور وہ پروفیشنل ڈرِفٹر بن گئیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2943