لاہور (ویب ڈیسک) 5 اکتوبر کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ مکہ معاہدے کے تحت کیے گئے اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عمل درآمد شروع کریں گے، اس میں مشترکہ فوجی صلاحیتوں، دستوں کی فراہمی اور ضرورت پڑنے پر ان کی سعودی عرب میں تعیناتی شامل ہے۔
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے 5 اکتوبر کو مکہ معاہدے کے تحت اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کیا، جس میں مشترکہ فوجی صلاحیتوں اور دستوں کی فراہمی اور ضرورت پڑنے پر ان کی سعودی سرزمین پر فوری تعیناتی کے انتظامات شامل ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق یہ فیصلہ اتحاد کی سیاسی اور دفاعی تزویراتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کا مقصد سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات کا جائزہ لینا تھا۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام اس پس منظر میں کیا گیا جب یمن کی جنگ پھر سے شدت اختیار کر رہی ہے اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے سعودی عرب پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو نے لکھا ہے کہ مکہ اتحاد کا عارضی قیام اسی سال اگست میں مکہ مکرمہ میں ہوا تھا اور موجودہ پیش رفت اسی اتحاد کے عملی اقدامات کی شروعات قرار دی جا رہی ہے۔
اداریے میں بعض میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے جن کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کے لیے سعودی درخواستیں مسترد کیں، تاہم واشنگٹن نے اہداف کے تعین اور آپریشنل منصوبہ بندی کے لیے انٹیلی جنس اور معلوماتی معاونت فراہم کی۔ ماہرین نے اس صورتِ حال کو سعودی اور امریکی سکیورٹی تعلقات کے لیے امتحان قرار دیا ہے۔
فاؤنڈیشن فار مڈل ایسٹ پیس کے سابق نائب صدر مچل پلیٹنک نے بی بی سی اردو سے کہا کہ “اس معاملے میں امریکہ نے سعودی عرب کو مایوس کیا ہے۔” ان کے مطابق اس پیش رفت نے سعودی عرب اور امریکہ کے سکیورٹی تعلقات پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں اور ریاض اب اپنی سلامتی کے لیے شراکت داروں میں تنوع لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری طرف امریکی محکمۂ خارجہ کے سابق مشیر آرون ڈیوڈ ملر کا مؤقف یہ ہے کہ واشنگٹن نے بڑے تصادم سے گریز کی پالیسی اپنائی، جبکہ کارنیگی اینڈومنٹ کے عمرو حمزاوی نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس تعاون کا راستہ اختیار کرنا ضروری نہیں کہ امریکہ کے خطے میں پیچھے ہٹنے کا ثبوت ہو۔
بی بی سی اردو کا مضمون اس نئے دفاعی انتظام کے عملی نتائج اور سعودی-امریکی تعلقات پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے، اور بتاتا ہے کہ یمن میں حالیہ فوجی اقدامات اور بحری گزرگاہوں کے خطرات نے علاقے کی سلامتی کے منظرنامے میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔



