میٹا جینومک ٹیسٹ: ایک نمونے میں کئی بیماریوں کی ایک ساتھ شناخت ممکن

میٹا جینومک ٹیسٹنگ ایک نمونے میں موجود مختلف جراثیم اور وائرسوں کا جینیاتی تجزیہ کر کے غیر معلوم انفیکشن کی شناخت ممکن بناتی ہے، یہ طریقہ کووڈ-19 کی ابتدائی شناخت اور اعصابی مریضوں میں اصل وجہ جاننے میں مددگار ثابت ہوا۔

لاہور (ویب ڈیسک) میٹا جینومک ٹیسٹنگ ایک جدید جینیاتی طریقہ ہے جو ایک ہی نمونے میں موجود مختلف وائرس اور جراثیم کا تجزیہ کر کے غیر معلوم انفیکشن کی شناخت ممکن بناتا ہے، اس تکنیک سے کووڈ-19 جیسے نئے وائرس کی شناخت اور اعصابی امراض کے مریضوں میں اصل وجہ جاننے میں مدد ملی ہے۔

میٹا جینومک ٹیسٹنگ ایک ایسا جدید جینیاتی طریقۂ تشخیص ہے جس کے ذریعے کسی نمونے میں موجود مختلف جراثیم اور وائرسوں کے جینیاتی مواد کا ایک ساتھ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے ایسے جراثیم کا بھی پتا لگایا جا سکتا ہے جن کی پہلے شناخت نہیں ہوئی ہو۔

رپورٹ میں دسمبر 2019 کی مثال دی گئی ہے جب چین کے تین بڑے شہروں کے ماہرین نے نمونیا کے پراسرار کیسز کی تحقیقات شروع کیں اور میٹا جینومک ٹیسٹنگ سے معلوم ہوا کہ مریضوں میں موجود وائرس کورونا وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا، جس کے بعد کووڈ-19 کی شناخت ممکن ہوئی۔

متعدی امراض کے ماہرین کہتے ہیں کہ میٹا جینومکس ایمرجنسی میں ڈاکٹروں کو جلد فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے، خاص طور پر جب مریض میں بخار، غنودگی یا اعصابی علامات ہوں اور یہ واضح نہ ہو کہ وجہ انفیکشن ہے یا خودکار مدافعتی عمل۔ رپورٹ میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر چارلس چیو اور ان کے ساتھیوں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا ٹیسٹ تیار کیا ہے جو سیریبروسپائنل فلوئیڈ میں موجود جراثیم اور وائرل جینیاتی مواد کی شناخت کر سکتا ہے۔

بی بی سی اردو میں ایک مریضہ کی مثال بھی دی گئی ہے جس کی ابتدا میں میننجائٹس اور جگر کی خرابی بتائی گئی تھی اور جگر کی پیوندکاری تجویز کی گئی، مگر میٹا جینومک ٹیسٹ نے ظاہر کیا کہ اصل وجہ ہیپاٹائٹس ای وائرس تھا؛ مریضہ کو وائرس کے خلاف دوا دی گئی اور ان کی طبیعت بہتر ہوئی، پیوندکاری درکار نہیں رہی۔

روایتاً اس ٹیکنالوجی کے نفاذ میں وقت لگتا تھا کیونکہ انسانی اور جراثیمی ڈی این اے میں تمیز کرنا پیچیدہ عمل ہے، مگر تیزی سے ترقی اور طبی اداروں میں وسیع استعمال سے یہ تشخیصی شعبے میں اہم تبدیلی لا سکتی ہے۔ رپورٹ میں ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ میٹا جینومکس نہ صرف نئے پیتھوجین کی شناخت میں مددگار ہے بلکہ بے تشخیص کیسز میں درست علاج کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2754