اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو کہا کہ ’جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ کولیپس کر چکا ہے (ڈھے چکا ہے)‘ اور مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانے کی تجویز دی، جبکہ اگلے روز فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بہتر انتظامی نظام اور ضروری اصلاحات پر غور کی بات کی۔ وفاقی وزرا خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ نے محسن نقوی پر تنقید کی، پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو نے نئے صوبوں کی مخالفت کی اور استعفے کا مطالبہ کیا۔
محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک معاشی سمٹ سے خطاب میں کہا کہ ’اگر وزیراعظم روزانہ 14 سے 18 گھنٹے بھی کام کریں تو یہ محض فائر فائٹنگ ہے، اس سے بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’انتظامی یونٹس یا صوبے، اس کو جو مرضی نام دے لیں، اس کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔‘
اگلے روز پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہو گا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے، جسے سکیورٹی اور گورننس کے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے یکم اگست کو ایکس پر محسن نقوی کو پارلیمان اور کابینہ کا فورم استعمال کرنے کا مشورہ دیا اور طنزاً لکھا کہ ’سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔‘ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 13 میں سے 12 نکات پر عملدرآمد محسن نقوی کی وزارت نے کرنا ہے۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا مگر وفاقی وزرا نے محسن نقوی پر یہ تنقید بھی کی کہ وہ تین سال سے ان منصبوں پر فائز ہیں اور تبدیلی کی بات اس عرصے میں شروع کر سکتے تھے۔
بی بی سی اُردو کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے نئے صوبوں کی مخالفت کرتے ہوئے محسن نقوی کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبے لازم نہیں کہ گڈ گورننس کی ضمانت ہوں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو میں کہا کہ نئے صوبوں کا قیام ’’بہت مشکل اور تقریباً ناممکن حل‘‘ ہے اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنا کر اور وہاں وسائل بڑھا کر گورننس بہتر کی جا سکتی ہے۔
سینئیر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بھی کہا کہ ڈویژنز کی سطح پر اختیارات منتقل کرنا بہتر حل ہے اور مقامی بیوروکریسی اور مقامی حکومتوں کو فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آرٹیکل 140 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کا نظام تشکیل دیں، جو فی الحال غائب ہے۔
بی بی سی اُردو نے سیاسی رہنماؤں اور ماہرین سے بات کی ہے، تاہم سوالات قائم ہیں کہ آیا نئے صوبے بننے سے بنیادی مسائل حل ہوں گے یا پہلے مقامی اور انتظامی اصلاحات پر توجہ دی جانی چاہیے




