‘ایلون مسک کا سوال: ’کیا انڈیا کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے دعویٰ کیا کہ کچھ بڑے بھارتی کاروباری شخصیات سٹار لنک کو روک رہی ہیں اور 'کیا انڈیا کا اصل باس امبانی ہے؟' لکھا؛ بھارت کی وزارت مواصلات نے 8 اکتوبر کو ان الزامات کی تردید کی۔

لاہور (ویب ڈیسک) ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انڈیا کی چند بڑی کاروباری شخصیات سٹار لنک کی انڈیا میں داخلے کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور سوال کیا، ‘کیا انڈیا کا اصلی باس امبانی ہے؟’ ان دعووں پر انڈیا کی وزارت مواصلات نے 8 اکتوبر کو تردید جاری کی۔

ایلون مسک نے حال ہی میں اپنی کمپنی سٹار لنک کے انڈیا میں کام شروع کرنے کے عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے ایکس پر دعویٰ کیا کہ “انڈیا کی چند اہم کاروباری شخصیات” سٹار لنک کی راہ میں حائل ہیں۔ مسک نے بعد میں سوشل پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ کچھ صنعتکار “انڈیا کی عوام پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے روکا جا رہا ہے” اور صارفین کے حق میں شبہات ظاہر کیے۔

مسک نے اپنی پوسٹ میں سوال اٹھایا: ‘کیا انڈیا کا اصلی باس امبانی ہے؟’، جبکہ سٹار لنک کی جانب سے سٹیلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچانے اور تعلیم و ٹیلی میڈیسن میں معاونت کرنے کی صلاحیت کا ذکر بھی کیا گیا۔ مسک نے لکھا کہ سٹار لنک دنیا کے بیشتر ممالک میں سروس فراہم کرتا ہے اور مثال کے طور پر قوانین کی پابندی کی بات بھی نوٹ کی۔

بھارت کی وزارت مواصلات نے 8 اکتوبر کو ایک پریس ریلیز میں ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ انڈیا کا سیٹلائٹ کمیونیکیشن ریگولیٹری نظام منصفانہ اور غیر امتیازی ہے۔ وزارت نے کہا کہ سٹار لنک سمیت تین کمپنیوں کو ایک ہی ریگولیٹری مرحلے میں رکھا گیا ہے اور ان سب کا سیکیورٹی آڈٹ جاری ہے۔ ریلیز میں کہا گیا کہ جب کوئی کمپنی آڈٹ مکمل کر لے گی تو اسے سپیکٹرم مختص کرنے کے اگلے مرحلے میں بھیجا جائے گا، اور اس لیے قواعد پر امتیازی عمل کا الزام غلط ہے۔

سرکاری بیان میں مزید کہا گیا کہ تینوں کمپنیوں کو لائسنس کی شرائط کے مطابق سیکیورٹی قوانین پر عمل کرنا ہوگا تاکہ صارفین اور اُن کے ڈیٹا کی حفاظت یقینی بن سکے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق سٹار لنک نے 2022 میں انڈیا میں خدمات شروع کرنے کی کوششیں شروع کیں، جون 2025 میں اسے جی ایم پی سی ایس کا لائسنس ملا اور ستمبر 2025 میں سپیکٹرم ٹرائلز کے لیے دیا گیا، تاہم کمرشل سروس شروع ہونے سے پہلے سیکیورٹی کلیئرنس اور دیگر طریقہ کار باقی ہیں۔

بھارت میں سٹار لنک کے ممکنہ حریفوں میں ریلائنس جیو اور بھارتی ایئرٹیل شامل ہیں، جنہوں نے مارچ 2025 میں سٹار لنک کے ساتھ معاہدے بھی کیے تھے، حالانکہ وہ براڈ بینڈ مارکیٹ میں اس کے مقابل بھی ہیں۔

اس تنازعے نے آن لائن ردعمل اور سیاسی ردعمل کو جنم دیا ہے؛ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے مسک کا خیرمقدم کیا جب کہ سرکاری ردعمل نے قواعد کی شفافیت اور غیر امتیازی عمل پر اصرار کیا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2833