سابق وزیرِاعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے صدر نواز شریف نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پِمز) کے گائناکالوجی وارڈ کے آئی سی یو میں بدھ کی صبح لگنے والی آگ میں 14 نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت پر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واقعے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے ہنگامی میٹنگ بلائی، وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا اور ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
اسلام آباد کے نامور سرکاری ہسپتال پِمز کے گائناکالوجی وارڈ کے آئی سی یو میں بدھ کی صبح لگی آگ کے واقعے میں ابتدائی رپورٹ کے مطابق 14 نوزائیدہ ہلاک ہو گئے، اِس المناک واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
سابق وزیرِاعظم نواز شریف نے اِس سانحے پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر و تحمل کی دعا کی۔ اُنہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ذمہ داروں کی فوری شناخت کی جائے اور اُن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے واقعے کا فوری نوٹس لیا، ہنگامی میٹنگ بلائی اور وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر کے اُنہیں عہدے سے ہٹا دیا۔ حکومت نے واقعے کی چھان بین کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو آگ کے اسباب اور ذمہ داریوں کا تعین کرے گی۔
نواز شریف نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر حفاظتی اقدامات اور ہنگامی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ اسی نوعیت کے حادثات دہرائے نہ جائیں۔
پِمز انتظامیہ اور حکومتی اہلکار واقعے کی مزید تفصیلات اور متاثرہ خاندانوں کو دی جانے والی امداد کے بارے میں آگاہی فراہم کر رہے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور اِس کے نتائج کے بارے میں مزید معلومات آنے پر عوام کو مطلع کیا جائے گا۔




