فورٹ ہڈ، ٹیکساس (ویب ڈیسک) امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ سابق فوجی میجر نضال حسن کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت عوام براہِ راست دیکھ سکیں گے اور اس کی تاریخ 3 دسمبر مقرر کی گئی ہے۔
امریکی محکمۂ دفاع اور پیٹ ہیگستھ کے بیانات کے مطابق نضال حسن کی سزائے موت فوجی سطح پر فائرنگ سکواڈ کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی اور اس کارروائی براہِ راست نشر کی جائے گی۔ پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ یہ تقریباً 60 برس سے زائد عرصے میں فوجی فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی پہلی سزائے موت ہوگی۔
بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ہیگستھ نے کہا کہ لوگوں کو دکھایا جانا چاہیے کہ ’اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔‘ انہوں نے جب پوچھے جانے پر کہ آیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے تو جواب دیا: ’مجھے پرواہ نہیں۔ 3 دسمبر کو ہم اسے دیکھیں گے۔‘ پینٹاگون کے ترجمان نے بھی ٹرمپ کی سفارش کی منظوری ہونے کی بات کی ہے۔
نضال حسن پر الزام ہے کہ 2009 میں فورٹ ہڈ میں 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ عدالت میں حسن نے اپنے کیے پر معذرت کی اور اپنے مؤقف میں کہا تھا کہ وہ افغانستان میں مسلمانوں اور طالبان کے تحفظ کے بارے میں سوچتا تھا۔
اس فیصلے پر قانونی اور اخلاقی اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں۔ حسن کے وکیل جان ملز نے کہا کہ براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ قانونی اعتبار سے ’غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔‘ ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ ’نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی یاد دلاتا ہے۔‘
متعدد ماہرین نے کہا ہے کہ براہِ راست نشریات ایک نئی سطح کی شفافیت یا ممکنہ طور پر تشدد کی نمائش کی راہ کھول سکتی ہے۔ فورٹ ہڈ میں یہ کارروائی سیکرٹری امریکی فوج کی طرف سے بھی منظوری کا تقاضا کرتی ہے اور بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے معلوم کیا ہے کہ آیا صدر نے اس براہِ راست نشر کی جانے والی سزا کی حمایت کی ہے۔
قانونی اپیل کا عمل ابھی جاری رہنے کا امکان ہے اور حسن کے مقدمے میں نظرِ ثانی کی درخواستیں وفاقی عدالتوں میں دائر ہو سکتی ہیں، جو سزا کے نفاذ کو مؤخر بھی کر سکتی ہیں۔




