اپوزیشن نے قانون، معیشت، مہنگائی اور صوبوں پر کُل جماعتی کانفرنس بلانے کی تیاریاں شروع کر دیں

اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ فورم بنانے اور قانون، معیشت، مہنگائی اور نئے صوبوں کے مسئلے پر بات چیت کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے مشاورتی عمل کا آغاز کر دیا۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) اپوزیشن جماعتوں نے جمعے کو مشترکہ فورم تشکیل دینے اور ملک کے قانون و تحفظ، معیشت، مہنگائی اور نئے صوبوں کے مسئلے پر بات چیت کے لیے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کے مشاورتی عمل کو تیز کر دیا۔ اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا وفد مولانا فضل الرحمان سے ملا جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں بھی اجلاس ہوا۔

اپوزیشن جماعتوں نے ملک کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر مشترکہ پالیسی بنانے اور اہم قومی امور پر اتفاق رائے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کرنے کے لیے مشاورت تیز کر دی ہے۔ ماخذ کے مطابق مشاورت کا محور قانون و نظامِ امن، معیشت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پی ٹی آئی کے وفد نے ملاقات کی جس کی قیادت چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان (پی ٹی آئی) نے کی۔ اس وفد میں سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور دیگر رہنما شامل تھے۔ ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن تشکیل دینے پر بات چیت ہوئی اور اس حوالے سے پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا۔

وفد کے ارکان نے ماخذ کے مطابق اے پی سی کی تیاریوں، 27 ستمبر کے احتجاجی پروگرام اور آئینی بالادستی، قانون کے نفاذ اور جمہوری نظام کی مضبوطی پر تفصیلی گفتگو کی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ قومی امور پر تمام اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا اور جب مشاورت مکمل ہو گی تو مشترکہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔

ایک اور اجلاس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کے چیمبر میں منعقد ہوا جس کی صدارت محمود خان اچکزئی نے کی۔ اس اجلاس میں 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے بھی مشاورت ہوئی اور پی ٹی آئی کو اس تاریخ کے لیے بھرپور تیاری کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

اسی دوران حکومت اور اپوزیشن کے دفتروں کے درمیان چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کی نامزدگی پر ملاقات کے انتظام کے لیے مشاورت شروع ہو گئی ہے۔ ماخذ نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کو لکھے گئے خط کے بعد دونوں اطراف کی جانب سے ملاقات کے سلسلے کو منظم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ماخذ کے مطابق اس سبھی سیاسی سرگرمیوں کے بیچ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے غیرمعمولی طور پر اگلے عام انتخابات 2029 کے لیے انتخابی عملے کے ڈیٹا بیس کو اپڈیٹ کرنے اور پولنگ اسٹیشنز کی فہرست کا جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی اور معاشی مسائل کی روشنی میں مشترکہ لائحہ عمل اور عوامی مسائل پر اتفاق رائے کے لیے اینجنڈا ترتیب دیا جائے گا اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کر کے اے پی سی جلد بلائی جائے گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1527