وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے وائس پریزیڈنٹ ینگمِنگ یانگ کے ساتھ ملاقات میں ایم ایل-1 ریلوے منصوبے کی جلدی گراؤنڈ بریکنگ اور بروقت آغاز پر زور دیا، جبکہ دونوں فریقوں نے نئے 2026 تا 2030 ملکی شراکت داری حکمتِ عملی کے تحت انفراسٹرکچر اور ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ لیا۔
اسلام آباد — وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے نمائندوں نے ایم ایل-1 ریلوے کارِڈور کی منصوبہ بندی اور اس کی جلد شروعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران پیرامیٹرز کا جائزہ لیا گیا اور وزیراعظم نے منصوبے کی جلدی گراؤنڈ بریکنگ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ منصوبہ بروقت آگے بڑھ سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایم ایل-1 کارِڈور کراچی سے پشاور تک 1,733 کلومیٹر پر محیط ہے اور اس میں کراچی، حیدرآباد، روہی، ملتان، لاہور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہر شامل ہیں۔ حکومت نے اس ٹرانسپورٹ روٹ کو فریٹ لاجسٹکس بہتر بنانے، علاقائی تجارتی رابطہ کاری میں اضافہ اور بڑے صنعتی منصوبوں کے لیے کلیدی قرار دیا ہے۔
ملاقات میں دونوں جانب نے نئے دور کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے علاوہ نجی شعبے میں تعاون، توانائی اور خوراک کی سلامتی، برآمدی مسابقت، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں بشمول مصنوعی ذہانت اور معلوماتی ٹیکنالوجی پر بھی بات کی۔
سرکاری سطح پر طے ہونے والی تاریخ یا مالی شرائط کے بارے میں مضمون میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں، تاہم حکومتی ترجیحات میں ایم ایل-1 کی ترجیحی حیثیت واضح طور پر سامنے آئی ہے۔




