پاکستان نے سعودی قیادت والے کثیرالقومی بحری دفاعی اتحاد کو پہلی نائب کمانڈر پوسٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ جدہ میں Western Fleet Command میں اتحاد کی تیسری منصوبہ بندی میٹنگ میں کیا گیا جس میں 39 ممالک کے نمائندے شریک تھے۔ اتحاد بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں کمانڈ ڈھانچہ فعال کر کے آپریشنل ڈپلائمنٹ کی تیاریاں کر رہا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کی ایک پریس ریلیز کے مطابق تیسری منصوبہ بندی میٹنگ میں پاکستان کو اس اتحاد کی پہلی نائب کمانڈر پوسٹ دینے کی منظوری دی گئی، جبکہ رکن ممالک اب اپنے افسران اور عملہ کو کمانڈ، بحری اور انٹیلی جنس ڈھانچوں میں تعینات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اتحاد کا عملی دائرہ کار ریڈ سی، باب المندب اسٹریت اور خلیج عدن کو محیط کرے گا، جو ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو ملانے والے اہم تجارتی سمندری راستے ہیں۔
گزشتہ ہفتے اتحاد کا کمانڈر سعودی ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشہری مقرر کیے گئے تھے۔ اتحاد نے اپنا ہیڈکوارٹر متعین کر دیا ہے، باضابطہ لوگو کی منظوری اور تنظیمی و منصوبہ بندی کے فریم ورکس مکمل کر لیے ہیں، جس سے آپریشنز کے آغاز کے راستے ہموار ہو گئے ہیں۔
اب تک 15 ممالک نے اتحاد کے مشترکہ بیان پر دستخط کیے ہیں جب کہ 13 ممالک نے براہِ راست رکنیت کے لیے درکار اضافی داخلی قانونی عمل مکمل کر لیا ہے۔ دیگر شریک ممالک بھی اپنے قومی منظوری کے عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شہری نے کہا ہے کہ اتحاد کا مقصد سمندری سطح پر پائیدار کثیرالاقوامی دفاعی تعاون قائم کرنا اور طویل المدتی سمندری سیکورٹی و استحکام کو مضبوط کرنا ہے۔ وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق موجودہ مرحلہ آپریشنل صلاحیتوں کو تیز کرنے اور اتحادی ذمہ داری کے علاقے میں دفاعی مشنز کے لیے تیاری بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔
سعودی عرب نے اس اتحاد کا اعلان گزشتہ ماہ ریاض میں ایک اجلاس کے بعد کیا تھا، جس میں 43 ممالک کے نمائندے شریک تھے۔ اعلان کے وقت سعودی عرب سمیت 14 ملک ابتدائی طور پر اس پہل میں شامل ہوئے۔ سعودی حکام نے کہا ہے کہ وہ ممالک جن کے مقاصد اور اصول مماثل ہیں، اس اتحاد میں شامل ہونے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
اتحاد کو آزادیِ نیویگیشن، تجارتی جہاز رانی کے راستوں اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے ایک مستقل کثیرالقومی فریم ورک کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی تجارت اور عالمی سپلائی چین کی حمایت ممکن بنائی جا سکے۔




