پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت چوتھے روز بھی معطل، سینکڑوں کنٹینرز پھنس گئے

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہیں چوتھے روز بھی بند رہیں، جس کے نتیجے میں دونوں اطراف سینکڑوں کنٹینرز اور تقریباً 1500 گاڑیاں پھنس گئی ہیں اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

گوادر (سٹاف رپورٹر) پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہیں چوتھے روز بھی بند رہیں، جس سے دونوں جانب سینکڑوں کنٹینرز اور تقریباً 1500 گاڑیاں پھنس گئی ہیں اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، جبکہ دونوں اطراف نے اس معطلی کو عارضی قرار دیا ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کی بندش 17 اکتوبر کو دونوں ملکوں کے حکام کی تصدیق کے بعد چوتھے روز بھی برقرار رہی، جس کے باعث بلوچستان راستے دونوں جانب تجارتی کارروائیاں متاثر ہوئیں۔

سرحدی کراسنگز بند ہونے کے بعد سینکڑوں کنٹینرز پھنس گئے ہیں جن میں ضروری اشیا، کھانے پینے کی اشیاء اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) شامل ہیں، بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق یہ کنٹینرز دونوں اطراف میں رکے ہوئے ہیں۔

گوادر سے تعلق رکھنے والے بارڈر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالغفور ہوت نے کہا کہ تجارتی معطلی سے تاجر برادری پریشان ہے اور انہیں بتایا گیا تھا کہ سرحدی تجارت جلد بحال کر دی جائے گی، مگر پیر کے روز تیسرے دن بھی بحالی نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب بعض کنٹینرز میں چاول جبکہ دیگر گاڑیوں میں آلو اور کیلے شامل ہیں۔

سابق صدر گوادر چیمبر آف کامرس شمس الحق نے بتایا کہ گبد ریمدان بارڈر کراسنگ پر پاکستان کی جانب تقریباً 1500 گاڑیاں کھڑی ہیں جن میں سے 600 سے 700 گاڑیاں وسطی ایشیائی ریاستوں تک جانے والی مال بردار ہیں، جبکہ ایران کی جانب پھنسے کنٹینرز کی تعداد تقریباً 3000 بتائی گئی ہے۔

حکومتی موقف کے طور پر بلوچستان حکومت کے ترجمان اور وزیرِ اعلیٰ کے مشیر شاہد رند نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بندش کا مقصد سکیورٹی خدشات کا ازالہ، سمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی انتظام کو مؤثر بنانا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان انتظامی مسائل کے حل کے لیے مثبت پیش رفت جاری ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے معطلی کو بعض تکنیکی مسائل اور فوری احتیاطی اقدامات سے جوڑا ہے۔ دونوں جانب سے زور دیا گیا ہے کہ یہ اقدام عارضی ہے۔

سرحدی تجارت معطل ہونے سے ایک دن قبل پاکستان کی وزارتِ تجارت نے 16 اکتوبر کو وہ حکمنامہ منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت ایران سے درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) سے استثنیٰ میں توسیع دی گئی تھی؛ وزارتِ تجارت نے یہ منسوخی تسلیم کی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر سوالات اور بحث جاری ہے، جبکہ مقامی تاجروں نے پھنسے مال کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر تجارت جلد بحال نہ ہوئی تو تجارتی نقصانات ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2754