حکومت نے روزانہ رات کی لوڈشیڈنگ پر معذرت کر دی

پاور ڈویژن نے آر ایل این جی کارگو کی غیر دستیابی کی وجہ سے رات کے پیک اوقات میں 1.5-3 گھنٹے تک عارضی لوڈ مینجمنٹ پر معذرت کی؛ لاہور، ملتان اور فیصل آباد متاثر ہوئے۔

پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ مائع قدرتی گیس کی ریگیسفائیڈ لیکوئفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی ایک شپ کی عدم دستیابی کے باعث رات کے پیک اوقات میں عارضی لوڈ مینجمنٹ کیا جا رہا ہے، جس پر حکومت نے صارفین سے معذرت کی ہے۔

پاور ڈویژن نے اطلاع دی ہے کہ آر ایل این جی کی ایک کارگو کی غیر موجودگی کی وجہ سے رات کے پیک گھنٹوں کے دوران بجلی پیداوار میں 3,600 میگاواٹ تک کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں عارضی لوڈ مینجمنٹ نافذ کی گئی ہے۔

محکمہ نے کہا کہ منگلا ہائیڈرو پاور اسٹیشن سے پیداوار میں بھی تقریباً 195 میگاواٹ کی کمی ہوئی، جس نے سسٹم پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے رات کے پیک اوقات میں عارضی طور پر 1.5-3 گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے تاکہ بجلی کی فراہمی اور طلب میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔

پاور ڈویژن نے صارفین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تاخیر شدہ آر ایل این جی کارگو بندرگاہ پر پہنچ کر فیول سپلائز بہتر نہیں ہوتیں، عارضی لوڈ مینجمنٹ جاری رہے گا۔ اس دوران فرنس آئل بیسڈ پاور پلانٹس کو پیک اوقات میں چلایا جا رہا ہے تاکہ ممکن حد تک طلب پوری کی جا سکے۔

محکمہ نے واضح کیا ہے کہ دن کے اوقات میں کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں ہو رہی، تاہم ان علاقوں کو جہاں ڈسٹری بیوشن نقصانات زیادہ ہیں، ان کے شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

ریپورٹ کے مطابق ترقی پذیر دباؤ نے پنجاب میں بجلی کی فراہمی پر اثر ڈالا ہے اور لاہور، ملتان اور فیصل آباد کے بعض حصوں میں لوڈشیڈنگ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آن لائن ردِعمل میں عوام کی ناراضگی نمایاں رہی اور کئی صارفین نے حکومتی وضاحتوں کو مسترد کیا۔

پاور ڈویژن نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ رات کے پیک اوقات میں غیر ضروری بجلی کا استعمال محدود کریں تاکہ سسٹم پر دباؤ کم ہو اور عارضی لوڈ مینجمنٹ کی مدت مختصر رہے۔ محکمہ نے یہ بھی کہا ہے کہ آر ایل این جی کارگو کی آمد کے بعد مرحلہ وار صورتِ حال بہتر ہو جائے گی اور لوڈ مینجمنٹ کی مدت میں کمی آ جائے گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1514