پاکستان نے برطانیہ کے مجرم شبیر احمد کی واپسی قبول کرنے سے انکار کر دیا

نائبِ وزیراعظم اسحٰق ڈار نے لندن میں کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان جنسی جرائم میں ملوث افراد کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں، اس لیے شبیر احمد کی واپسی مسترد کی گئی۔

نائبِ وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے لندن میں بتایا ہے کہ پاکستان نے برطانیہ کے روچڈیل گروپ کے مجرم شبیر احمد کی ملک واپسی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان جنسی جرائم میں ملوث افراد کے تبادلے یا حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں۔

لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نائبِ وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ برطانوی وزیرِ خارجہ نے سفر کے دوران شبیر احمد کی ممکنہ واپسی کا معاملہ اٹھایا، تاہم موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت پاکستان اسے واپس نہیں لے سکتا۔

ڈار نے بتایا کہ شبیر احمد کو بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق 30 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے اور برطانوی حکومت نے اس معاملے میں بات کی تھی، مگر دونوں ممالک میں ایسے مقدمات کے لیے کسی باہم معاہدے کی عدم موجودگی واضح کارفرما ہے۔

نائبِ وزیراعظم نے اپنی برطانیہ کے حالیہ دورے کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ملاقاتوں میں کئی اہم دوطرفہ اور علاقائی امور زیرِ بحث آئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کامن ویلتھ کے سیکرٹری جنرل اور برطانیہ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سے بھی مثبت ملاقاتیں کیں۔

ڈار نے مزید کہا کہ برطانوی حکام نے پاکستان کے امن و مصالحت کے تئیں سفارتی کردار کی قدر دانی کی، اور اس بات کو بھی سراہا گیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کیا۔

سرکاری سطح پر جاری بیانات کے مطابق، شبیر احمد کے حوالے سے آئندہ کسی بھی اقدام کے لیے قانونی اور ڈپلومیٹک طریقہ کار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں گے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1527