محمد احمد خان 2026 World Deaf Leadership Scholarship حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ثابت ہوئے اور Fall 2026 میں MA Deaf Studies پروگرام میں داخلہ کے لیے Gallaudet University میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ بہرے ہیں اور پیدائشی طور پر بہرے والدین کے بیٹے ہیں؛ اس اسکالرشپ کے ذریعے وہ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے۔
محمد احمد خان 2026 World Deaf Leadership Scholarship حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں اور انہیں Fall 2026 میں MA Deaf Studies پروگرام کے لیے Gallaudet University میں داخلہ مل چکا ہے۔
خان پیدائشی طور پر بہرے ہیں اور ان کے والدین بھی بہرے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میٹرک کے بعد 2006 میں مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ پائے اور روزگار اختیار کرنا پڑا۔ بعد ازاں وہ BankIslami میں ملازمت کر چکے ہیں۔
خان نے پاکستان Association of Deaf Youth and Students (PADYS) میں سیکرٹری کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیے، جہاں انہوں نے بہرے نوجوانوں کی ترقی اور بااختیاری پر کام کیا۔
ماخذ کے مطابق، 2026 World Deaf Leadership Scholarship کے ذریعے انہیں Gallaudet University میں داخلہ ملنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کا موقع ملا ہے۔ Gallaudet University کو بہرے اور سننے میں کمزور طلبہ کے لیے ایک اہم ادارہ قرار دیا گیا ہے۔
خان نے کہا کہ ان کا مقصد اپنے مطالعاتی تجربے سے حاصل کردہ علم اور مواقع واپس پاکستان لانا ہے اور بہرے نوجوانوں کے لیے بہتر تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو پورے پاکستان کے بہرے نوجوانوں کے لیے قرار دیا اور کہا کہ یہ انہیں یہ دکھائے گا کہ مزید مواقع ممکن ہیں اور ان کی کامیابی دوسروں کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں، پاکستان میں بہرے نوجوانوں کے تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع بڑھانے کی کوششوں میں نئی ہمت اور رہنمائی متوقع ہے۔




