کراچی (سٹاف رپورٹر) آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے اشتراک سے کراچی پریس کلب میں منعقدہ میڈیکل کیمپ میں طبی ماہرین نے والدین سے بچوں میں بڑھتی ہوئی فاسٹ فوڈ کی کھپت روکنے کی تاکید کی، جس کے نتیجے میں غیر صحت بخش خوراک اور سست طرزِ زندگی دل کی اور دیگر بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔
میڈیکل کیمپ میں حاضر ماہرین نے بتایا کہ بچوں میں فاسٹ فوڈ کی زیادہ مقدار اور جسمانی سرگرمی کی کمی نوجوان نسل میں قلبی بیماریوں اور دیگر طبی مسائل کا بوجھ بڑھا رہی ہے۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے پروفیسر پلمونولوجی ڈاکٹر جاوید اے خان نے زور دیا کہ بیماریوں کی روک تھام کے لیے باقاعدہ جسمانی مشق، متوازن خوراک اور صحت مند طرزِ زندگی بہت ضروری ہیں۔
ڈاکٹر جاوید نے والدین سے بچوں کو فاسٹ فوڈ سے منع کرنے اور سبزیوں سمیت غذائیت بخش غذائیں بڑھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ طرزِ زندگی میں تبدیلیاں اپنانے سے متعدد امراض کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس کے علاوہ سگریٹ نوشی اور دیگر تمباکو استعمال سے احتراز کرنے کی بھی تلقین کی، کیونکہ تمباکو صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔
کارڈیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر یاور سعید نے کہا کہ پاکستان اور پورے ایشیا میں قلبی بیماریاں وبائی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں اور پچھلے قریباً ایک دہائی میں نوجوانوں میں دل کے دورے بھی زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں۔ میڈیکل کیمپ کے دوران شرکت کرنے والوں کے لیے ایكوکارڈیوگرام اور الیکٹروکارڈیوگرام سمیت مختلف طبی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔
ماہرین نے کہا کہ اسکولوں، گھروں اور کمیونٹیز میں صحت مند کھانے اور ورزش کو فروغ دینا وقت کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلوں پر بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ روکا جا سکے۔




