(ویب ڈیسک) واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اداکار پیٹرک سٹیورٹ کی موت نے بہت سے لوگوں کو حیران کیا، اور ماہرین نے کہا ہے کہ لیوی باڈی ڈیمنشیا اور الاسائمر ہمیشہ طویل، بتدریج بیماریاں نہیں ہوتیں۔
واشنگٹن پوسٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق اداکار پیٹرک سٹیورٹ کی موت نے کئی لوگوں کو چونکا دیا۔ رپورٹ نے کہا ہے کہ عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ لیوی باڈی ڈیمنشیا اور الاسائمر جیسی حالتیں طویل عرصے تک، بتدریج اثر انداز ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں ماہرین کی طرف سے یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ یہ شرائط ہمیشہ لمبے دورانیے کی علامت نہیں ہوتیں اور بعض صورتوں میں بیماریوں کا ارتکاز تیزی سے بھی ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے ماہرین کے اس بیان کو حوالہ بنا کر قارئین کو بتایا کہ بیماریوں کے ارتکاز میں فرق ہو سکتا ہے اور ہر معاملہ الگ انداز اختیار کرتا ہے۔
رپورٹ میں مزید طبی تفصیلات یا پیٹرک سٹیورٹ کے مریضانہ تاریخ کے بارے میں اضافی معلومات شامل نہیں کی گئیں؛ مواد کا اصل ماخذ واشنگٹن پوسٹ ہے۔




