وفاقی حکومت نے 10 ستمبر کے لیے پٹرول 3.40 روپے فی لِٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) 6.72 روپے فی لِٹر بڑھا کر قیمت بالترتیب 367.75 روپے اور 392.67 روپے فی لٹر مقرر کر دی۔
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) حکومت نے گزشتہ روز (9 ستمبر ) کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھائی تھیں، پٹرول میں 5.58 جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 4.18 روپے فی لِٹر کا اضافہ کیا تھا۔ ا،س سے قبل 8 ستمبر کو بھی حکومت نے پٹرول کی فی لِٹر قیمت میں 12.90 جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3.72 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
حکومت نے 17 جولائی کو قیمت سازی کا نیا نظام نافذ کیا تھا جس کے تحت ایندھن کی قیمتیں ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر طے کر کے نوٹیفائی کی جاتی ہیں۔
نئی روزانہ بنیاد پر قیمت سازی کے نفاذ کے بعد قیمتوں میں بڑی اب تک مجموعی طور ہر پٹرول کی قیمت میں 50 روپے سے زائد جبکہ ڈیزل میں قریباً 40 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات براہِ راست صارفین اور ٹرانسپورٹ لاگت پر پڑتے ہیں،اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ نہ صرف سفری ٹرانسپورٹ بلکہ مال برداری کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان کے لیے پٹرولیم مصنوعات بڑے پیمانے پر درآمد کرتا ہے، عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ملکی درآمدی بِل، زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور افراطِ زر میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اِس کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی عام آدمی کو شدید متاثر کرتی ہے۔ ماضی میں حکومت کی جانب سے سبسڈیز اور انتظامی مداخلتیں عارضی طور پر صارفین کو تحفظ دیتی رہی ہیں لیکن اِن سے بجٹ پر دباؤ اور مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ اب اِس کی اجازات انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام میں ہونے کی وجہ سے مالیاتی ادارہ نہیں دیتا۔
عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بدھ کو 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں، پاکستان چونکہ اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اِس لیے عالمی رسد میں خلل فوری طور پر مقامی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔




