پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) نے جمعہ کو اپنے 102 ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز اجلاس میں نئے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر کی زیرِ صدارت عملے کو ایک ماہ کی تنخواہ بطور بونس منظور کی۔ یہ اعلان نجی ملکیت میں منتقلی اور عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں کنسورشیم کی سربراہی کے بعد سامنے آیا۔
PIA کے بورڈ نے جمعہ کو ہونے والے اپنے 102 ویں اجلاس میں ادارے کے عملے کے لیے ایک ماہ کی تنخواہ بطور کارکردگی بونس منظور کر دی۔ یہ پہلا بورڈ اجلاس تھا جو قومی پرچم بردار ایئر لائن کے نجی انتظام میں منتقلی کے بعد منعقد ہوا۔
بورڈ کے اس فیصلے کو نئے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر کی زیرِ قیادت میں عملے کو مراعات دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائعِ ابلاغ نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ PIA نے اپنے ملازمین کے لیے کارکردگی بونس منظور کیا ہے۔
یہ پیش رفت اس تناظر میں اہم ہے کہ دسمبر 2025 میں نئے مالکان نے واضح کیا تھا کہ ابتدائی برسوں میں ایئر لائن خسارے میں جا سکتی ہے حالانکہ کنسورشیم نے قومی کیریئر میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ عارف حبیب کارپوریشن کی رہنمائی میں بنائے گئے کنسورشیم نے ایئر لائن کے کنٹرول کے بعد انتظامی تبدیلیاں کیں اور بطور چیئرمین انور علی حیدر کو تعینات کیا گیا۔
نئی انتظامیہ کے بعد وفاقی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے PIA کی موجودہ انکم ٹیکس ذمہ داریوں پر واجب الادا جرمانے اور سوچارجز میں سے 4.29 ارب روپے (Rs. 4.29 billion) معاف کر دیے تھے، جو کہ کنسورشیم کی تقرری کے فوراً بعد سامنے آیا۔
ماہرین اور عوامی ردِ عمل ملے جلے رہے؛ کچھ لوگوں نے کہا کہ نجی کنسورشیم کو سینئر سول یا ہوا بازی کے پیشہ ور افراد کو ترجیح دینی چاہیے تھی، جبکہ دیگر نے مالکِ خصوصی اور انتظامیہ کے اس اقدام پر شکوک کا اظہار کیا کہ بیتابی کے باوجود اس سے PIA کی مالی بحالی ثابت نہیں ہوتی۔
رائے عامہ میں کچھ امید کی آوازیں بھی سنائی دیں، مگر عمومی تاثر یہ ہے کہ نئے مالکان اور انتظامیہ کو عوام کو قائل کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ ثابت کرنا ہوگا۔ ماخذ نے واضح کیا کہ ایک ماہ کا بونس مالی بہتری کی حتمی گواہی نہیں، البتہ یہ نئے انتظام کی جانب سے اعتماد کا اشارہ ہو سکتا ہے۔




