وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہفتے کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پِمز) کی نرسری میں لگنے والی آگ ککی عبوری انکوائری رپورٹ آنے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت آٹھ افسروں کو معطل کرنے کے علاوہ اُن کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مجرمانہ کارروائی کا حکم سے دیا۔
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ افسروں کے خلاف محکماتی اور فوجداری کارروائی دونوں کا حکم دیا ہے۔ جن افراد کی معطلی اور کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے اُن میں پِمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز مطاہر شاہ اور چوہدری اویس علی شاہ، نیونیٹل شعبے کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلا امجد، پِمز سیکیورٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عثمان اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبد الرحمان شامل ہیں۔
وزیراعظم نے لاہور میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران سیکورٹی فراہم کرنے والی کمپنی اور اُس کے افسروں کے خلاف بھی گرفتاری یا دیگر مجرمانہ کارروائی کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کو بطور قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر پِمز مقرر کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ باقی ماندہ معطل افراد کی جگہ فوراً نئے افراد مقرر کیے جائیں۔
وزیراعظم نے واقعے کی مزید تفتیش کا حکم دیتے ہوئے ایک وارڈ میں موجود ایک نرس اور ایک خاتون گارڈ کو خصوصی ذمہ داری پر تعینات کیا۔ انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو عوامی طور پر جاری کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، پی ایم او نے کہا کہ یہ رپورٹ جلد وزارتِ صحت کی ویب سائٹ پر شائع کر دی جائے گی۔
وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کو ایک بچے کی جان بچانے پر ستارۂ خدمت اور ایک کروڑ روپے نقد انعام کی منظوری بھی دی۔ پی ایم او نے بتایا کہ واقعے کے وقت وارڈ میں 15 نومولود موجود تھے جن میں سے 14 فوت ہو گئے تاہم نرس نے ایک بچّے کو بچا لیا تھا۔
اجلاس کے دوران تقریباً دو منٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی گئی۔ قبل ازیں وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پِمز کے بچوں کے وارڈ کا دورہ کیا، لواحقین سے تعزیت کی اور متاثرہ دو خاندانوں کو حکومت کی طرف سے 50 لاکھ روپے کے چیک بھی دیے گئے۔
پِمز کے بیان کے مطابق واقعہ 06:38 منٹ پر نرسری میں چنگاری سے شروع ہوا اور ہر انکیوبیٹر کے قریب موجود آکسیجن پوائنٹس کی وجہ سے چند سیکنڈ میں آگ تیزی سے پھیل گئی۔ بعض گواہوں نے ایمرجنسی خدمات میں تاخیر اور دروازوں کے بند ہونے کے انکشافات کیے جنہیں حکومت اور ہسپتال نے بعض پہلوؤں پر مسترد کیا ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ کمیٹی کی سفارشات جو بھی ہوں اُنہیں بغیر کسی استثنیٰ نافذ کیا جائے گا۔




