لاہور (رانا نوشاد علی خان) مسلم لیگ ن نئے صوبوں کے حق میں ہے یا نہیں، موقف سامنے آ گیا، پارٹی ذرائع نے سب بتا دیا۔۔۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ ن نئے صوبوں کے حق میں ہوتی تو وہ اِسے خود پارلیمنٹ میں لاتی، اسٹیبلشمنٹ یا کوئی اور نہیں بلکہ پارلیمنٹ طے کرے گی کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں۔
مسلم لیگ ن کے مستند ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ اُس کے سامنے رکھا گیا تھا، وہ اگر اِس کے حق میں ہوتی یا اُسے لگتا کہ ایسا ہو سکتا ہے تو وہ خود اِسے پارلیمان میں لاتی۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی ضِد سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں بحث کے بعد نئے صوبوں کی قسمت کا فیصلہ ہو گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف بالکل واضح ہے، اُس کے بغیر نہ صوبے بن سکتے ہیں، نہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ترمیم ہو سکتی ہے، یہاں تک کہ ریفرنڈم بھی دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں دو تہائی سے منظور ہونے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔
پارٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو اِس منصوبے سے اختلاف کا بہت زیادہ سیاسی فائدہ ہوا، وہ نہ صرف سندھیوں کی آواز بن گئی بلکہ اُس نے اِس سے اپنی بقاء بھی یقینی بنا لی ہے، صوبوں کی تقسیم کا سب سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی کو ہو سکتا تھا، اِسی لیے یہ اُس کے لیے بقاء کی جنگ تھی۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمن بلاول بھٹو زرداری نے اِس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا کہا ہے، معاملہ پارلیمنٹ میں آئے گا تمام جماعتیں اِس پر اپنی رائے دیں گی، پھر اٹھارویں ترمیم کی طرز پر ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو اِس معاملے پر سیر حاصل بحث کرے گی اور پھر جو فیصلہ ہو گا وہ سب کے سامنے آ جائے گا۔
اِس کام کے ٹائم فریم سے متعلق ذرائع کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم میں تمام جماعتوں میں اتفاق پیدا کرنے میں مہینوں لگے تھے، دیکھتے ہیں اِس میں چھ ماہ، ایک سال یا شاید اِس سے زائد عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
ذرائع نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ایک دوسرے کے حق میں نہیں تھے جس کی وجہ سے دونوں میں سے کوئی بھی صوبہ نہ بن سکا، صوبہ بنانا آسان کام نہیں، یہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، پنجاب میں نئے صوبوں سے متعلق قراردادیں غیر موثر ہو چکی ہیں کیونکہ کوئی بھی قرارداد نئی اسمبلی کے آ جانے پر غیر موثر ہو جاتی ہے۔




