اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے قومی اسمبلی میں چیف وِہپ عامر ڈوگر نے پارٹی میں اندرونی اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چند روز میں حکومت کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں کوئی اختلافات موجود نہیں جبکہ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے دستوری اور قانونی طور پر منتخب وزیرِ اعلیٰ ہیں جو جماعت کے بانی چیئرمین کے اعتماد کی وجہ سے اِس عہدے پر ہیں۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ بانی چیئرمین کی منظوری کے بغیر کوئی دوسرا شخص وزیرِ اعلیٰ نہیں بن سکتا اور اگر کسی نے آفریدی کو ہٹانے کی کوشش کی تو وہ جماعت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر ’’نمایاں دباؤ‘‘ اور ’’بے مثال ظلم‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے 10 سے زائد رُکنِ قومی اسمبلی جیلوں میں ہیں۔ ڈوگر نے بار بار کہا کہ اُن کی جماعت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، اُمید ہے کہ حکومت کے ساتھ جلد بات چیت بحال ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ یہ بیان اُن خبروں کے ردِعمل میں سامنے آیا جن کے تحت سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی ایک آڈیو ریکارڈنگ منظرِ عام پر آئی جس میں وہ سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ پر تنقید کرتے سنائی دیتے ہیں۔ گنڈا پور نے سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی سلمان اکرم راجہ کے دعووں پر ثبوت طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اُن کے پاس کوئی شواہد ہیں تو وہ نام سامنے لائیں۔
اِس سے قبل پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے سوشل پوسٹ میں کہا تھا کہ جماعت کی صفوں پر غیر جمہوری قوتوں کا حملہ ہو رہا ہے اور کچھ اراکین نے آفریدی اور اُن کی ٹیم سے رابطہ منقطع کر لیا تھا جس کے نتیجے میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہوا۔
پارٹی کے چیئرمین بارسٹر گوہر علی خان نے اِس سلسلے میں رہنماؤں کو ایک دوسرے کے خلاف بیانات جاری نہ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جماعت متحد ہے اور صوبائی اراکین پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی پر پابندی کی ضرورت نہیں رہی۔ یاد رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام رہنے پر 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا گیا جس کی بعد ازاں قومی اسمبلی اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے توثیق کرا لی گئی تھی۔




