جائیداد سیکٹر کی ٹیکس آمدنی میں 29٪ گراوٹ، تنخواہ داروں پر بوجھ دوگنا

حکومت کی جانب سے جائیداد کی ٹیکس شرحوں میں نصف کمی کے باعث رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی ٹیکس آمدنی میں 29٪ کمی اور 11 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا، جبکہ تنخواہ داروں نے 91 ارب روپے ادا کیے۔

حکومت نے پہلی دو مہینوں میں جائیداد کی ٹیکس شرحوں کو نصف کر کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی ٹیکس آمدنی میں 29٪ کمی اور سالانہ 11 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان کیا، جبکہ تنخواہ داروں نے 91 ارب روپے ادا کیے۔

حکومت نے مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں جائیداد کی پیشگی ٹیکس کی شرحیں نصف کر دیں۔ سیلز ٹیکس کی شرح 2.75٪ اور خریداری کی شرح 1.25٪ مقرر کی گئی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی مجموعی ٹیکس آمدنی 29٪ کم ہوئی اور سالانہ آمدنی میں 11 ارب روپے سے زیادہ کا زیاں ہوا۔

اس کے برعکس، ملک کے تنخواہ دار طبقات نے مشترکہ طور پر 91 ارب روپے ٹیکس ادا کیے، جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ٹیکس کا 325٪ بنتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ محنتی شہریوں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ امیر رئیل اسٹیٹ سپیکولیٹر کم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان کی مجموعی ٹیکس‑سے‑جی ڈی پی شرح صرف 10٪ ہے، جبکہ مماثل ابھرتے ممالک کی اوسط 15٪ ہے۔ اس کے علاوہ ملکی پیداوار کا تقریباً 40٪ غیر دستاویزی سرگرمیوں میں رہتا ہے جس کی مالیت 25 کھرب روپے کے قریب ہے۔ یہ بڑی مقدار سرکاری ٹیکس نیٹ سے باہر رہتی ہے۔

آمدنی ٹیکس کی مجموعی وصولی بھی پہلے دو مہینوں میں 4٪ کم ہوئی اور مقررہ ہدف سے 74 ارب روپے کم رہی۔ اس سے مالیاتی خسارے کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔

مزید برآں، درآمدی مرحلے کے ٹیکس اب کل آمدنی کا تقریباً آدھا حصہ بن چکے ہیں، جو طویل مدت میں غیر مستحکم تصور کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جائیداد سیکٹر کو ٹیکس میں رعایت دینا درحقیقت دولت کی دولت کی منتقلی ہے، جو پہلے سے ہی امیر طبقات کو فائدہ پہنچاتی ہے جبکہ تقریباً 29٪ آبادی غربت میں رہتی ہے اور لاکھوں افراد کے لیے جائیداد کا خواب بھی دور کا معاملہ بن جاتا ہے۔

حکومت کو چاہئے کہ ٹیکس نظام کی اصلاح پر توجہ دے اور محنت کش عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی ٹیکس پالیسی کو دوبارہ دیکھے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515