ریاض کے شاہ خالد ائیرپورٹ پر حملہ، کم از کم 12 ہلاک اور 309 زخمی

سعودی حکام کے مطابق ریاض کے شاہ خالد ائیرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے؛ سعودی اتحاد نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی اور پاکستان نے واقعے کی مذمت کی۔

لاہور (ویب ڈیسک) سعودی حکام نے کہا ہے کہ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حوثیوں کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے ہیں، اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے ’فیصلہ کن‘ جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کو ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حوثی شورش پسندوں کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حملے کو ایک ٹرمینل کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں مسافروں اور ہوائی اڈے کے عملے کے اراکین کے ہلاک ہونے کی صورت میں بیان کیا اور اسے ’جنگی جرم‘ قرار دیا۔ اتحاد نے کہا ہے کہ اس حملے کے بعد ’فیصلہ کن‘ جوابی کارروائی کی جائے گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے حوالے سے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ گیٹ نمبر چار کو نشانہ بنتے دیکھا گیا اور ’زخمی میرے سامنے تھے اور ہر کوئی بھاگ رہا تھا۔‘ روئٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایک درجن سے زائد ایمبولینسیں ہوائی اڈے کی جانب تیزی سے جاتی دکھائی دیں۔

دوسری جانب فضائی پروازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار کے مطابق ریاض جانے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا یا انہیں منسوخ کر دیا گیا، اور متعدد خلیجی ایئرلائنز نے اپنے ریاض کے لیے یا وہاں سے پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ مغربی ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ہوائی اڈے اور اطراف سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، جب کہ برطانیہ نے شہریوں کو وہاں جانے سے گریز کرنے کی تلقین کی ہے۔

امریکی سیاسی رہنماؤں نے بھی واقعے کی مذمت کی؛ خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور فرمایا کہ وہ سعودی قیادت کے ساتھ رابطہ کریں گے، جبکہ ایک امریکی عہدے دار مارکو روبیو نے بھی سخت مذمت کی اور ایک امریکی شہری کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔

حملے کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف اس نوعیت کے حملوں کو قطعی ناقابلِ قبول قرار دیا اور پاکستان کی جانب سے سعودی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کی تاکید کی۔ بعد ازاں دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بھی باضابطہ بیان میں کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ معاہدے کے تحت سعودی سلامتی کے عزم پر قائم ہے اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی عالمی سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2754