روسی وزارتِ خارجہ کی اُردن میں داعش حملے کی شدید مذمت، سات ہلاک 40 زخمی

روسی وزارتِ خارجہ نے مغربی اردن میں یادگاری تقریب پر داعش حملے کی شدید مذمت کی؛ بیان کے مطابق واقعے میں 7 ہلاک اور 40 زخمی ہوئے اور روس نے اردن کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔

(ویب ڈیسک) روسی وزارتِ خارجہ نے مغربی اردن میں ایک یادگاری تقریب پر مبینہ طور پر داعش کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں 7 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے ایک باضابطہ پیغام میں مغربی اردن میں یادگاری تقریب میں ہونے والے مذموم حملے کی سخت مذمت کی۔ وزارت نے حملے کو ‘سینکی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملے میں 7 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔

بیان میں روس نے اردن کے ساتھ غیرمشروط یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لڑائی میں اپنی ثابت قدمی کا اعادہ کیا۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ ‘دوست ملک’ اردن کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھے گی۔

ماخذ روسی وزارتِ خارجہ کا سرکاری پیغام ہے، جس میں واقعے کے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اعداد اور روس کے اظہارِ یکجہتی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس بیان میں حملے کے مرتکبوں کے بارے میں مزید تفصیلات یا ذمہ داری قبول کرنے والے گروپ کے حوالے سے مزيد معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

روسی وزارتِ خارجہ کا یہ ردِعمل بین الاقوامی سطح پر اردن میں اس حملے کے خلاف اظہارِ ہمدردی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دستاویزی پیغام کے علاوہ دیگر بین الاقوامی یا مقامی حکومتی رد عمل کا حوالہ اس ماخذ میں موجود نہیں ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2750