امریکہ نے روس سے ڈیزل خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، یورپی صدر ایمانوئل میکرون اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے شدید تنقید کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت امریکی حکومت نے روسی ڈیزل کی خریداری کا معاہدہ طے کیا ہے۔ اس اقدام نے واشنگٹن، کیو، اور یورپی اتحادی ممالک کے درمیان نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس معاہدے کو “ہر کسی کے لیے نقصان دہ” اور “تقسیم، شبہ اور جدائی” کا باعث کہا۔ اس دوران، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ معاہدہ روس کو مزید مالی وسائل فراہم کرے گا اور اس کی یوکرین پر جاری جنگ کے مالی معاونت میں اضافہ کرے گا۔ زیلنسکی نے کہا کہ “یہ ڈیزل کا معاہدہ روس کے جیب میں مزید پیسے ڈالے گا تاکہ وہ جنگ جاری رکھ سکے”۔ یورپی یونین کے رہنماؤں نے زیلنسکی کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، روسی ڈرون حملوں نے خارکیو میں تین افراد کی جان لے لی اور ملک کے وسیع حصوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس معاہدے کی وجہ سے امریکی اور یورپی حکام کے درمیان تعلقات پر اثرات مرتب ہونے کے امکان کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔




