سابق پاکستانی کپتان سلمان بٹ نے ہیڈنگلے میں انگلینڈ کے خلاف بدترین شکست کے بعد انگلش میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کی سخت تنقید کا ایک انٹرویو میں جواب دیا، جس میں انہوں نے اپنی ٹیم کا دفاع اور انگلینڈ اسکواڈ کی تشکیل پر اعتراض کیا۔
سابق کپتان سلمان بٹ نے انگلش اخبارات اور سابق انگلینڈ کھلاڑیوں کی اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کو ‘‘پچھلے 50 سال کی بدترین ٹیم’’ قرار دیا گیا۔ یہ ردِ عمل ہیڈنگلے میں انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی ایک اننگز اور 103 رنز کی شکست کے بعد سامنے آیا، جس کے نتیجے میں تین میچوں کی سیریز میں انگلینڈ 1-0 سے آگے ہے۔
انٹرویو میں بٹ نے خاص طور پر دی ٹیلیگراف کے تبصرے اور سابق انگلش کپتان مائیکل واون کی رائے کا حوالہ دیا جنہوں نے پاکستان کو ‘‘اب تک انگلینڈ ٹور کرنے والی کمزور ترین ٹیم’’ کہا تھا۔ بٹ نے کہا کہ پاکستان نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ دنیا کی بہترین ٹیم ہے، مگر اپنے ملک کی نمائندگی کرنے والی ٹیم کی توہین برداشت نہیں کی جا سکتی۔
بٹ نے انگلینڈ کی جانب سے کی گئی تنقید پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ٹیم اسی ملک کے کرکٹ سسٹم کی نمائندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ‘‘کامن ویلتھ ٹیم’’ یا مختلف ممالک کے ملا جلا اسکواڈ نہیں جس میں کپتان آئرلینڈ سے، وکٹ کیپر جنوبی افریقہ سے اور درمیانے درجے کے بلے باز مختلف ممالک سے چنے گئے ہوں۔ انہوں نے زور دے کر کہا، ‘‘یہ ہماری ٹیم ہے، اور اگر کسی کو شبہ ہو تو چیک کر کے دیکھا جائے۔’’
سلمان بٹ نے یہ بھی کہا کہ ہر ٹیم کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور ایک خراب کارکردگی پوری ٹیم کی شناخت مستقل طور پر تبدیل نہیں کرتی۔
دوسری جانب سابق انگلش فاسٹ بولر سٹورٹ براڈ نے اپنی تشخیص پر قائم رہتے ہوئے ایک پوڈکاسٹ میں دہرایا کہ ان کی رائے کے مطابق پاکستان ‘‘کمزور’’ ہے اور انگلینڈ کو سیریز میں 3-0 سے جیتنا چاہیے۔ براڈ نے محمد عباس کی تعریف کی اور کہا کہ وہ پاکستان کے بہترین بولر ہیں، مگر وہ محمد علی اور خرم شہزاد سمیت باقی پیس اٹیک سے مطمئن نہیں دکھائی دیے۔
میچ کی اس واضح شکست اور کھلاڑیوں پر تنقید کے بعد دونوں جانب سے بات چیت اور تجزیے جاری ہیں، جبکہ پاکستانی شائقین اور سابق کرکٹرز نے بھی مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔




