لاہور (سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں نگرانی بہتر کرنے، طبی عملے کی تربیت یقینی بنانے اور مریضوں کی شکایات کے بروقت ازالے کے احکام جاری کیے اور بایبی حنیفہ کی طبی غفلت کے مقدمے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ نے ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت بہتر بنانے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے آپریٹنگ تھیٹرز کی باقاعدہ جانچ اور دوروں کا حکم دیا اور خلاف ورزیوں کی صورت میں کارروائی کرنے کو کہا ہے۔
کس عدالتی بینچ نے فیصلہ دیا، یہ صفحۂ شواہد میں بتایا گیا ہے کہ معاملہ بایبی حنیفہ کی 2018 کی سول پٹیشن اور اس سے منسلک سول اپیل سے متعلق تھا۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس یحییٰ افریدی نے کی اور عدالت نے بایبی حنیفہ کی درخواست منظور کی، نیز کاسٹس بھی ادا کرنے کی ہدایت کی گئی۔
عدالت نے ہسپتالوں میں طبی عملے کی تربیت، مریضوں کی شکایات کے بروقت حل اور آپریشن تھیٹرز میں نگرانی کو مریضوں کی حفاظت کے لیے ضروری قرار دیا۔ عدالتی حکم کے مطابق خلاف ورزیوں کی صورت میں مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ فیصلہ اس طبی غفلت کے مقدمے سے براہِ راست منسلک ہے جس میں متاثرہ فریق معاوضے کا دعویٰ کر رہی تھیں؛ عدالت نے اصل پٹیشن اور منسلک اپیل منظور کر کے سابق ہائی کورٹ کے حکم کو معطل کیا۔
ماخذ کے مطابق یہ ہدایات مریضوں کے حقوق اور طبی سروسز میں شفافیت بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہیں، تاہم مزید تفصیلات یا حکومتی نفاذ کے اقدامات ماخذ متن میں شامل نہیں تھے۔




