بشکیک، وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی خطے کی ’’زندگی کی شہ رگ‘‘ ہے اور اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں انڈس واٹرز ٹریٹی (آئی ڈبلیو ٹی) کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ یہ بیان مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) کے اُس فیصلے کے ایک دن بعد آیا جس میں بھارت کو معاہدے کی پاسداری کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں ایک ہائیڈرو پراجیکٹ کا کام معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کرغِزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے وہئے کہا کہ خطے کی ترقی اور یہاں کی بستیاں آباد رہنا پانی کے بغیر ممکن نہیں۔ اُنہوں نے زور دیا کہ پانی کو کسی صورت ہتھیار نہیں بننا چاہئے، اسے بلیک میل یا سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
وزیرِاعظم نے واضح طور پر کہا کہ طے شدہ بین الاقوامی معاہدے سنجیدہ، پابند اور لازم ہوتے ہیں اور انہیں حرف بہ حرف اور اُن کی روح کے مطابق نافذ کیا جانا چاہئے۔ اُن کے خطاب کا حوالہ اِس پس منظر میں بھی تھا کہ نیدر لینڈ کے شہر ’’دی ییگ‘‘ میں قائم عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ طاو معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت کے پاس معاہدہ معطل یا ختم کرنے کی کوئی جواز نہیں۔ عدالت نے مقبوضہ کشمیر کے ایک ہائیڈرولک منصوبے کے کام کو معطل کرنے کا حکم بھی دیا۔
وزیراعظم نے اس زور دے کر کہا کہ علاقائی صلاحیت مکمل طور پر اُسی وقت پروان چڑھ سکے گی کہ جب خطے کا امن برقرار رہے، پانی کے معاملے میں شفافیت اور بین الاقوامی قانون پر عملدرآمد لازم ہے۔
اُن کا خطاب میں علاقائی سکیورٹی اور ترقی کے وسیع ایجنڈے پر بھی بات کی گئی۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ایس سی او کے سربراہانِ مملکت کونسل کی صدارت 2026-27ء کی مدت کے لیے سنبھالی ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ سربراہی اجلاس اسلام آباد میں ہوگا۔ اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی صدارت میں آئی ٹی اور اے آئی، توانائی، غربت کے خاتمے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، صحت اور ثقافت جیسے شعبوں کو ترجیح دے گا۔ اِس ضمن میں پاکستان نے خودمختار اے آئی انفراسٹرکچر اور گورننس کے لیے فریم ورک قائم کرنے کی تجویز بھی رکھی۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کو خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں اس عفریت کے خلاف کل 90 ہزار سے زائد جانیں اور 150 ارب ڈالر سے زائد معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے۔
شہباز شریف کا خطاب اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پانی کے تنازعات نہ صرف ماحولیات یا ترقی کے مسائل ہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام، بین الاقوامی قانون اور عوامی بقا کے سوالات بھی ہیں۔




