اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) شیری رحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں آج انجام دیے جانے والے اقدام میں ای ایس جی پالیسی اور اس کے پیمانے کو بڑھانا پاکستان کے موسمی اہداف، پائیداری کے بینچ مارکس اور کارپوریٹ انکشافات کے لیے اہم ہے۔
وزیراعظم یا متعلقہ اداروں کی طرف سے آج اسلام آباد میں کیے جانے والے ایک پروگرام کے سلسلے میں شیری رحمان نے اِس اقدام کی طرف رجحان کا اظہار کیا اور واضح طور پر کہا کہ “ای ایس جی پالیسی، اور اس کے پیمانے کو بڑھانا پاکستان کے موسمی اہداف، پائیداری کے بینچ مارکس اور کارپوریٹ انکشافات کے لیے اہم ہے۔”
شیری رحمان کے اس بیان میں تین واضح نکات اجاگر ہیں کہ ای ایس جی پالیسی کی اہمیت، اس کی سکیلنگ اپ یعنی توسیع اور اس کا تعلق ملک کے ماحولیاتی اہداف اور کاروباری شفافیت سے۔ انہوں نے کہا کہ آج اسلام آباد میں اس سلسلے میں جو کام ہو رہا ہے، اسی سمت ایک قدم ہے، اور اُن کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پالیسی کو عام طور پر نافذ اور بڑے پیمانے پر اپنانا درکار ہے۔
اس پیغام میں خاص طور پر کارپوریٹ سیکٹر کے لیے انکشافات کی ضرورت اور پائیداری کے بینچ مارکس کو پورا کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ ای ایس جی یعنی ماحولیاتی، سماجی اور گورننس معیارات کی تعمیل کاروباری اداروں کی شفافیت بڑھانے، ماحولیاتی اثرات کم کرنے اور وسیع تر پائیداری اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک کلیدی فریم ورک تصور کی جاتی ہے، اور رہمن کا مختصر مگر واضح بیان اسی فکری لائن کی تائید کرتا ہے۔
شیری رحمان نے اپنے ٹویٹ میں مستقبل میں اِس پالیسی کے اطلاق اور سکیلنگ اپ کے لیے اُمید کا اظہار بھی کیا۔ مزید تفصیلات یا حکومتی اعلان اسی تقریب یا متعلقہ سرکاری حکام کی جانب سے آنے والے باضابطہ اعلانات میں متوقع ہیں۔




