شیری رحمان: ای ایس جی صرف ماحولیات نہیں، سیاست اور قانون بھی شامل ہیں

شیری رحمان نے پاکستان ایک ایس جی پالیسی رپورٹ کی لانچنگ میں کہا کہ ای ایس جی صرف ماحولیات نہیں بلکہ سیاست اور قانون کو بھی ساتھ لے کر عمل درآمد کرنا ہوگا، آگاہی تو ہے مگر عمل درآمد میں خل ہے۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان ایک ایس جی پالیسی رپورٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی امور صرف ماحولیات تک محدود نہیں بلکہ انہیں سیاست اور قانون کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے اور اگرچہ ملک میں ای ایس جی سے متعلق آگاہی موجود ہے عمل درآمد میں بڑا خل ہے۔

اسلام آباد (پاکستان پیپلز پارٹی) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان ایک ایس جی پالیسی رپورٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب میں کہا کہ ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی (ای ایس جی) امور کو صرف ماحولیاتی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ سیاست اور قانون کے ساتھ مربوط ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں ای ایس جی کے بارے میں آگاہی موجود ہے، تاہم اس آگاہی کو عملی شکل دینے میں نمایاں خلیج ہے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ پالیسی سازی، قانونی فریم ورک اور سیاسی عزم کے بغیر ای ایس جی کے اہداف مکمل نہیں ہو پائیں گے۔

تقریب میں پیش کی گئی رپورٹ کے بارے میں اُن کے خطاب کا مرکزی موقف یہ تھا کہ ای ایس جی کا ایجنڈا وسیع تر سماجی اور انتظامی اصلاحات کا بھی تقاضا کرتا ہے، اور اس کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کی سنجیدہ شرکت اور ضروری قانونی اصلاحات لازمی ہیں۔

شیری رحمان کے بیانات سے واضح ہے کہ سیاسی جماعت کی سطح پر ای ایس جی کے نفاذ کو مربوط حکمتِ عملی اور قانون سازی کے ذریعے ممکن بنایا جانا چاہیے، جبکہ موجودہ سطح پر صرف شعور کافی نہیں۔ رپورٹ لانچنگ کے موقع پر حکومتی اور کاروباری اسٹیک ہولڈرز کو شامل کر کے عمل درآمد کے راستے تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2775