سندھ میں پانچ سال سے ذہنی صحت کی پالیسی نہیں، ماہرین صرف 10 اضلاع میں

سندھ میں پانچ سال سے ذہنی صحت کی کوئی صوبائی پالیسی نہیں ہے اور تقریباً 140 ماہرین صرف 10 اضلاع تک محدود ہیں، ماہرین نے صوبائی خدمات میں بڑے خلا اور ڈیٹا کی عدم دستیابی کی نشاندہی کی۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) سندھ میں پانچ سال سے صوبائی ذہنی صحت کی کوئی پالیسی موجود نہیں اور صوبے میں موجود تقریباً 140 ذہنی صحت کے ماہرین صرف 10 اضلاع میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ماہرین نے کہا ہے۔

سندھ میں ذہنی صحت کے وسائل اور حکمتِ عملی کا بڑا خلاء موجود ہے جس کے باعث بہت سے افراد علاج تک رسائی سے محروم ہیں۔ ماخذ کے مطابق صوبے کے پاس پچھلے پانچ سال سے کوئی ذہنی صحت کی پالیسی موجود نہیں، جبکہ تقریباً 140 ماہرینِ ذہنی صحت پورے سندھ میں صرف 10 اضلاع تک محدود ہیں۔

ڈاکٹر کریم خواجہ، اعزازی چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی، نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی کا 30 فی صد سے زائد حصّہ ڈپریشن اور دیگر ذہنی و نفسیاتی عوارض کا شکار ہے اور ملک میں کل تقریباً 600 ذہنی صحت کے پیشہ ور ہیں جن میں سے 140 سندھ میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “بقیہ اضلاع میں یہ ماہرین موجود نہیں ہیں۔”

ماخذ میں ماہرین نے صوبائی سطح پر قابلِ اعتماد ڈیٹا کی عدم موجودگی کو بھی مسئلے کی پیچیدگی قرار دیا، جس سے یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کس ضلع میں خدمات کی کتنی ضرورت ہے۔ ماہرین نے کہا کہ اس خلا کی وجہ سے بروقت تشخیص، علاج اور حوالہ جاتی نظام متاثر ہو رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال افریدی نے کہا کہ پاکستان میں ایک تہائی افراد کسی نہ کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہیں اور ڈپریشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے نوجوانوں میں بے روزگاری، اقتصادی دباؤ، منشیتی اشیاء کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے حد سے زائد استعمال کو ذہنی صحت کے مسائل کا باعث قرار دیا۔

پروفیسر واجد علی آکھونزادہ، صدر پاکستان سائیکیاٹرک سوسائٹی، نے بھی ملک میں ماہرین کی کمی اور ذہنی صحت کی خدمات میں سرمایہ کاری کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ ماہرین نے تجویز دی ہے کہ سندھ کے لیے جامع پالیسی فریم ورک وضع کیا جائے جس میں روک تھام، ابتدائی تشخیص، علاج، حوالہ جات، ماہرین کی ٹریننگ اور ڈیٹا کلیکشن شامل ہوں تاکہ زیادہ متاثرہ اضلاع کا تعین اور وسائل کی مناسب تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔

ماخذ نے خبردار کیا ہے کہ جب تک خدمات بڑے شہروں سے باہر پہنچائی نہیں جاتیں، بہت سے افراد خاموشی سے جدوجہد کرتے رہیں گے اور ضرورت کے وقت مدد اُن کی پہنچ سے باہر رہے گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2754